Tuesday, 25 October, 2005, 14:04 GMT 19:04 PST
بالاکوٹ زلزلے کے بعد ملبے کا ڈھیر بن گیا تھا اور اب بھی صورتحال زیادہ مختلف نہیں ہے لیکن وہاں کسی حد تک زندگی کے آثار نظر آنے لگے ہیں۔
بالاکوٹ میں، جسے مردہ شہر بھی کہا جانے لگا ہے، اب چند دکانیں کھل گئی ہیں۔ ان میں پھل، سبزی اور ادویات کی دکانیں شامل ہیں۔ ان دکانوں میں سب سے زیادہ رش سگریٹ خریدنے والوں کا تھا۔
وہاں اوزاروں کی بھی ایک دکان کھلی ہے جہاں سے لوگ اپنے گھروں کی کھدائی کے لیے سامان خرید رہے ہیں۔
رات ہوتے ہی شہر اندھیرے میں ڈوب جاتا ہے۔ اب تک اس کے ایک حصہ میں
بجلی بحال ہوئی ہے۔ وائرلیس کنیکشن کے ذریعے کچھ لوگوں کو ٹیلی فون کی سہولت فراہم کی گئی۔
شہر کو صاف پانی مہیا کرنا سب سے بڑی ضرورت ہے۔ اس کے لیے سویڈن کے رضاکاروں کی ایک دریائے کنہار پر ایک پلانٹ لگا رہی جس سے دن میں نوّے ہزار گیلن صاف پانی ملے گا۔
شہر کی عمومی صورتحال بدستور خراب ہے۔ فوج کے اہلکار اور رضاکار بدستور ملبے میں سے لاشیں نکالنے میں مصروف ہیں۔ شہر میں تعفن اور گندگی پھیلی ہوئی ہے۔