Friday, 21 October, 2005, 03:24 GMT 08:24 PST
وفاقی ریلیف آپریشن کے سربراہ میجر جنرل فاروق احمد نے امدادی سرگرمیوں کے حوالے سے کہا ہے کہ وہ ان سے کسی حد تک مطمئن ہیں لیکن حادثے کی نوعیت اتنی شدید ہے کہ ابھی بھی کمی محسوس ہوتی ہے۔
زلزلہ آنے کے تقریباً دو ہفتے گزرنے کے بعد امدادی کاموں کے حوالے سے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ یہ آفت بہت بڑی ہے اور اس نوعیت کی آفات کے بعد سنبھلنے اور اسے سمجھنے میں وقت لگتا ہے۔
’ہر حادثے کے بعد بےضبطگیاں بھی دیکھنے میں آتی ہیں۔ دیکھنا یہ ہوتا ہے کہ ان پر کتنی جلدی قابو پا لیا جاتا ہے‘۔
امدادی کاموں کے حوالے سے انہوں نے کہا کہ وادئ کشمیر اور صوبہ سرحد کے کئی علاقے بہت دشوار گزار راستے ہیں اور ہر گھاٹی اور ہر وادی میں جانے میں ابھی وقت لگے گا۔ انہوں نے کہا کہ ان مشکلات کے باوجود پاکستان فوج کے جوان اور دوسرے رضاکار دور افتادہ علاقوں تک پہنچے ہیں اور لوگوں کی مدد کی ہے۔
تعمیرِ نو کے حوالے سے انہوں نے کہا کہ بستیاں، گاؤں اور شہر دوبارہ آباد ہوں گے۔ ’اس سلے میں صدر مشرف اور وزیرِ اعظم شوکت عزیز نے ایک خاکہ تیار کر لیا۔ تاہم ریبلڈنگ کا وقت ابھی آئے گا۔ ابھی ہم ریلیف کے مرحلے میں ہیں۔ ایک اتھارٹی بنا دی گئی ہے جو اس ساری تعمیرِ نو کا انتظام سنبھالے گی‘۔
ایل او سی کھولنے سے متعلق صدر مشرف کی تجویز پر بھارتی ردِ عمل کے حوالے سے انہوں نے کہا کہ ’میں نے صرف یہ کہا تھا کہ شاید بھارت کو یہ تجویز قابلِ قبول نہیں ہے‘۔
انہوں نے کہا کہ ایل او سی کھولنے کی بات اس لیے کی گئی تھی کہ اگر ایسے غم کے موقع پر دونوں اطراف سے رشتہ دار ایک دوسرے سے مل لیں گے تو اپنا دکھ بانٹ لیں گے۔
’ایل او سی کھولنے کی بات کسی امداد کے لیے نہیں کی گئی تھی‘۔