Thursday, 20 October, 2005, 03:34 GMT 08:34 PST
زلزلے میں جہاں بہت بڑے پیمانے پر جانی اور مالی نقصان ہوا ہے وہیں پر کچھ علاقوں سے کافی تعداد میں نقل مکانی کی اطلاعات بھی مل رہی ہیں۔
پا کستان کے زیر انتظام کشمیر کے شہروں باغ اور راولہ کوٹ میں لوگوں کا کہنا ہے کہ وہ اس جگہ پر رہنا ہی نہیں چاہتے۔
لیبر پارٹی پاکستان کے جنرل سیکریٹری فاروق طارق امدادی کاموں کے سلسے میں باغ اور اسکے بہت سے مضافاتی علاقوں میں گئے۔ بی بی سی اردو سروس سے بات کرتے ہوئے انھوں نے بتایا کہ راولا کوٹ، باغ اور دیگر علاقوں سے سامان اور لوگوں سے بھری ویگنیں پنجاب کی طرف آ رہی ہیں۔
انہوں نے کہا کہ لوگوں کا کہنا تھا کہ وہ پنڈی جا رہے۔ زیادہ تر لوگ یہ کہہ رہے ہیں کہ اب یہاں کس واسطے رہیں جبکہ اب کچھ بچا ہی نہیں۔
![]() | |
| جب مصیبتوں کے پہاڑ ٹوٹ پڑتے ہیں |
انہوں نے کہا کہ بڑی تعداد میں لوگوں کے نقل مکانی کرنے کے ساتھ ہی ٹرانسپورٹروں نے کرائے بڑھا دیے ہیں۔ باغ سے پنڈی آنے کا جو کرایہ پہلے ایک سو بیس تھا اب وہ پانچ سو سے چھ روپے تک بھی وصول کیا جا رہا ہے۔
فاروق طارق نے باغ کے علاقے کا تفصیلی دورہ کرنے کے بعد کہا کہ یہ علاقہ اب مکمل طور پر خالی ہونے کو ہے۔ جو لوگ یہاں باقی رہ گئے ہیں ان کے بقول صرف اسی شہر میں ساٹھ ہزار کے قریب افراد ہلاک ہوئے ہیں۔