Wednesday, 19 October, 2005, 12:47 GMT 17:47 PST
علی سلمان
بی بی سی اردو ڈاٹ کام لاہور
پاکستان میں زلزے کے متاثرین کے لیے خیموں کی ضرورت پڑی تو خیموں کی قیمتوں میں بھی اضافہ ہوگیا ہے اور ان کا معیار بھی گر گیا ہے۔
متاثرین کی بحالی کے لیے استعمال کیے جانے والے خیمے بنانے والے محمد یوسف عابد کا کہنا ہے کہ اس وقت جو خیمے علاقوں میں بھجوائے جا رہے ہیں وہ زیادہ تر غیرمعیاری ہیں کیونکہ یہ گلی محلوں میں تیار ہونا شروع ہوگئے ہیں حتی کہ پرانے کپڑوں کاکاروبار کرنے والے افراد نے بھی یہ کام شروع کر دیا ہے۔
محمد یوسف عابد کا کہنا ہے کہ ان نئے تیار کنندگان کو یہ علم ہی نہیں کہ 'بحالی خیمہ' ہوتا کیاہے وہ محض پیسے کمانے کے چکر میں خیمے بنانے لگے ہیں۔
یوسف عابد کے بقول بحالی خیمے اگر معیاری نہ ہوں تو ان کا مقصد ہی فوت ہو جاتا ہے۔
انہوں نے کہا کہ بحالی کیمپ کے لیے ضروری ہے کہ ایک خیمے کی کم از کم دو تہیں ہوں اور دونوں کا آپس میں کوئی آٹھ انچ کا فاصلہ ہو تاکہ گرمی سردی اور بارش سے بچاؤ ہو سکے۔ ان کا کہنا ہے کہ خیموں کو کھڑا رکھنے والی چوب معیاری نہیں ہوگی تو خیمہ پہاڑ پر ٹک سکے گا اور نہ ہوا کے تھپیڑوں کا مقابلہ کر سکے گا۔
![]() | |
| اس وقت فراہم کیے جانے والے زیادہ تر خیمے غیر معیاری بتائے جاتے ہیں |
ماہرین کا کہنا ہے کہ پاکستان کو اس وقت آفت زدہ علاقوں میں ڈھائی سے پانچ لاکھ خیموں کی فوری ضرورت ہے۔
پاکستان کینوس اینڈ ٹینٹ مینوفیکچرز اینڈ ایکسپورٹرز ایسوسی ایشن کے نائب چئرمین ممتاز سبزواری کا موقف ذرا سا مختلف ہے ان کا کہنا ہے کہ اس وقت لاکھوں خاندان کھلے آسمان تلے پڑے ہیں اور فی الحال انہیں جیسے بھی خیمے مل جائیں انہیں غنیمت جانا جائے تاہم بعد میں انہیں معیاری خیموں سے تبدیل کیا جا سکتا ہے۔
ممتاز سبزواری نے کہا کہ پاکستان اس طرح کے خیمے برآمد کرنے والا سب سے بڑا ملک ہے اور اس وقت ملک بھر کی باون فیکٹریوں میں آٹھ سے دس ہزار خیمے روزانہ تیار ہو رہے ہیں انہوں نے توقع ظاہر کی ہے کہ آئندہ ہفتے یا دس دن میں خیموں کی فراہمی کی صورتحال قدرے بہتر ہو جائے گی۔
بعض مینوفیکچرز کا خیال ہے کہ دس روز تو کیا ایک ماہ میں بھی صورتحال بہتر ہوسکے گی نہ خمیوں کو فراہمی ضرورت کے مطابق ہوسکے گی جبکہ سردی میں اضافہ ہوتا جا رہا ہے اور ایک ماہ بعد تو کڑاکے کی سردی پڑنا شروع ہوجائے گی۔
لاہور کے نواح میں تیس کلومیٹر فیروز پور روڈ پر واقع ایک فیکٹری کے مالک محمد یوسف عابد کوئی تیس سال سے ریلیف کیمپ (بحالی کیمپ) بنانے کا کاروبار کر رہے ہیں اور وہ بحالی کا کام کرنے والے صرف غیرملکی بین الاقوامی اداروں کو خیمے بنا کر دیتے ہیں۔
ان کی فیکٹری کی تینوں حصوں میں خیموں کی تیاری کا کام زوروں پر جاری ہے اور سلائی میشن لیے کاریگر خیمے جوڑنے میں مصروف تھے۔
انہوں نے کہا کہ انہیں پچیس ہزار خیمے تیار کرنے کا آڈر مل گیا ہےاور مزید پندر ہزار کا مطالبہ زیرغور ہے تاہم ان کا کہنا تھا کہ اتنی جلدی اتنے خیمے تیار کرنا خاصا مشکل معاملہ ہے اور اگر وہ بہت بھی تیزی دکھائیں گے تو تین مہینوں میں مذکورہ آڈر پورا کر پائیں گے۔
![]() | |
| کچھ لوگوں کا کہنا ہے کہ اس وقت جیسے بھی خیمے مل جائیں غنیمت ہیں بعد میں انہیں معیاری خیموں سے تبدیل کیا جا سکتا ہے |
انہوں نے اپنی کئی مشکلات کا ذکر کیا ان کے بقول میٹریل کی قیمت میں اضافہ ہوگیا ہے جو کینونس پہلے صرف دو روپے اونس میں ملتا تھا اب وہ تین روپے اونس میں بھی دستیاب نہیں ہے۔
اسی طرح خمیوں کو کھڑا رکھنے کے لیے استعمال ہونے والے لوہے کہ راڈ(چوب) مہنگے ہوگئے ہیں۔
ان کے بقول اگرچہ انہوں نےمزدوروں اور کاریگروں کا معاوضہ تین گنا تک بڑھا دیا ہے لیکن اس کے باوجود ان کے کئی مزدور کام چھوڑ کر زیادہ معاوضے لینے کے لیے غیر معیاری خیمے تیار کرنے والوں کے پاس چلے گئے ہیں۔
ایک کاریگر لیاقت نے بتایا کہ وہ پہلے دو سو روپے فی خیمہ سلائی وصول کیا کرتے تھے لیکن اب انہوں نے اپنا معاوضہ بڑھا کر پانچ سو روپے کر دیا ہے۔
انہوں نے کہا کہ چونکہ کام بڑھ گیا ہے اس لیے انہوں نے معاوضہ بڑھا دیا ہے۔
کارخانے کے مالک محمد یوسف عابد نے بتایا کہ انہوں نے کارخانے میں چوبیس گھنٹے کام کا کہا ہے اور شائد ملک بھر کے پچاس سے زائد کارخانوں میں کام ہو رہا ہو تاہم ان کا کہنا تھا کہ شدید سردیوں تک زلزلے کے متاثرین کی خمیوں کی ضروریات کو پورا کرنا ایک انتہائی کٹھن کام ہے جو حکومت کی سرپرستی کے بغیر ناممکن ہے۔