Wednesday, 19 October, 2005, 10:29 GMT 15:29 PST
بھارت نے صدر پرویز مشرف کے لائن آف کنٹرول پر نرمی کے اعلان کا خیرمقدم کیا ہے لیکن پاکستان کی ایک اہم مذہبی جماعت نے اس تجویز پر خدشات کا اظہار کیا ہے۔
گزشتہ روز پاکستان کے صدر پرویز مشرف نے مظفرآباد میں ایک اخباری کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا تھا کہ زلزلے کے بعد لوگوں کوتعمیر نو اور اپنے عزیزوں سے ملاقات کے لیے کنٹرول لائن عبور کرنے کی سہولت میسر ہونی چاہیے۔
آٹھ اکتوبر کو آنے والے زلزلے میں کشمیر میں اور پاکستان کے شمالی علاقوں میں بیالیس ہزار افراد ہلاک اور ساٹھ ہزار سے زیادہ زخمی ہو گئے تھے۔ دشوارگذار پہاڑی علاقے کی وجہ سے یہاں امدادی کارروائیاں کرنے میں شدید مشکلات پیش آرہی ہیں۔
زلزلے کے بعد موسم خراب ہونے کی وجہ سے زلزلہ سے متاثر ہونے والے لوگوں کی مصیبتوں میں اضافہ ہو گیا ہے۔
پاکستان کے زیر انتظام کشمیر میں نیلم اور جہلم وادیوں میں بہت سے ایسے دیہات ہیں جہاں تک زمینی راستے بند ہو چکے ہیں۔
بین الاقوامی امدادی اداروں کے مطابق پانچ لاکھ افراد ایسے ہیں جن تک کوئی مدد نہیں پہنچ سکی۔ موسم سرما کی آمد آمد ہے اور بہت سے مقامات پر پہاڑی چوٹیوں پر برف پڑ چکی ہے۔
دیہاتی لوگوں کا کہنا ہے کہ اب کچھ دنوں کی بات ہے کہ وادیوں میں اور پہاڑوں پر دیہات میں برفباری شروع ہوجائے گی جس سے مزید نقصان کا اندیشہ ہے۔ خدشہ ہے کہ بڑی تعداد میں زخمی، بچے اور بوڑھے لوگ ایسے ہیں جن کے لیے موجودہ حالات میں سردی کا مقابلہ کرنا مشکل ہوگا۔
صدر مشرف نے کہا کہ 'لائن آف کنٹرول کے پار سے آنے والے لوگوں کی کسی بھی تعداد کو ہم آنے دیں گے۔' انہوں نے کہا کہ اگر بھارت اس تجویز سے اتفاق کرتا ہے تو اس کی تفصیلات طے کی جاسکتی ہیں۔
جنرل مشرف نے کہا ہے کہ پاکستان لائن آف کنٹرول کو بہت سے مقامات سے کھولنے کے لیے تیار ہیں اور ہر اس کشمیری کو پاکستان آنے کی اجازت دینے کے لیے تیار ہیں جو زلزلہ زدگان کی مدد کے لیے پاکستان آنا چاہتا ہے۔
انہوں نے کہا کہ پاکستان کشمیری رہنماؤں کو بھی لائن آف کنٹرول کے آرپار آنے جانے کی سہولت مہیا کرنے کے لیے تیار ہیں۔
صدر مشرف نے کہا کہ وہ موبائل کمپنیوں کو بھی کشمیر میں اپنی سروس شروع کرنے کی اجازت دینے کے لیے تیار ہیں تاکہ دونوں طرف کے کشمیروں کو رابطے
کی سہولت میسر آ سکے۔
پاکستان کے وزیر خارجہ خورشید قصوری نے بی بی سی اردو سروس سے بات کرتے ہوئے کہا ہے کہ لائن آف کنٹرول کھولنے کی پیش کش کرنے کا فیصلہ دو روز سے پہلے کیا گیا تھا۔انہوں نے کہا کہ یہ تجویز امدادی کارروائیوں سے مشروط نہیں ہے۔