Saturday, 15 October, 2005, 04:59 GMT 09:59 PST
زلزلہ سے متاثرہ ضلع باغ کی تحصیل حویلی سے تعلق رکھنے والے عبدالمالک نے بتایا ہے کہ ان کے علاقے میں ساتویں رات بھی لوگوں نے کھلے آسمان تلے زندگی گزاری ہے۔
عبدالمالک نے بی بی سی کو بتایا کہ بہت تباہی ہوئی ہے۔ 'سو فیصد مکان رہنے کے قابل نہیں ہیں، ہلاکتیں بہت ہوئی ہیں، جو لوگ فوت ہوئے ہیں وہ دفن ہوگئے ہیں۔ فوج والوں نے بنیادی طبی امداد فراہم کی ہے۔'
ان کا کہنا تھا کہ 'کوئی بھی تنظیم، این جی اوز یا کوئی حکومتی نمائندہ، کوئی ابھی تک یہاں نہیں پہنچا ہے۔ ابھی بھی لوگ آسمان تلے رہ رہے ہیں۔'
عبدالمالک نے بتایا کہ بہت سے لوگ ایسے ہیں جو ایک ہی کپڑے، شلوار قمیض میں گزشتہ ایک ہفتے سے رہ رہے ہیں۔ 'فرسٹ ایڈ ہوئی ہے لیکن کوئی ریلیف نہیں پہنچ رہی ہے کیوں کہ اس علاقے تک جو سڑک آتی ہے وہ بلاک ہوگئی ہے۔'
ان کا کہنا تھا کہ کچھ فوجی وہاں پہلے سے تعینات تھے اور کچھ باہر سے ہیلی کاپٹر سے آنے والے فوجیوں نے کافی مدد کی۔ 'آرمی والوں نے کام کیا ہے، زخمیوں کو طبی امداد فراہم کی ہے اور شدید زخمیوں کو ہسپتالوں تک پہنچایا۔'
عبدالمالک نے بتایا کہ ان کے گاؤں میں بھی لڑکیوں کی ایک اسکول گرگئی اور ان کے بھائی نے عمارت میں پھنسی ہوئی ایک طالبہ کو بچالیا تاہم ایک بچہ ملبے کے نیچے ہلاک ہوگیا۔ انہوں نے بتایا کہ صرف ان کے گاؤں میں بائیس افراد ہلاک ہوگئے۔