Wednesday, 12 October, 2005, 12:02 GMT 17:02 PST
مبشر زیدی
بی بی سی اردو ڈاٹ کام، راولاکوٹ
جب آپ اسلام آباد سے کہوٹہ کے راستے پاکستان کے زیرِانتظام کشمیر کی حدود میں داخل ہوتے ہیں تو وہاں ایک بڑا سا بورڈ لگا ہوا ہے جس پر انگریزی میں لکھا ہوا ہے کہ قدرت سے محبت کرنے والوں کے لیے کشمیر دلکش نظارے تسکینِ قلب کا سامان کرتے ہیں۔ شاید کشمیر میں چار روز قبل آنے والے زلزلے سے پہلے یہ بات درست ہو۔
کشمیر میں زلزلے کی تباہ کاریوں کی خبریں پڑھ کر جب میں کل رات راولا کوٹ کے لیے نکلا اور اس بورڈ پر میری نظر پڑی۔ مجھے لگا کہ یہ بورڈ مجھ سے کہہ رہا ہے کہ اگر قدرت کے قہر کا نظارہ کرنا ہے تو کشمیر آپ کے لیے دل دہلا دینے والے مناظر پیش کرتا ہے۔
عموماً ساڑھے تین گھنٹے کا سفر میں نے امدادی سامان سے بھرے ٹرکوں، ان پر لدے درجنوں رضا کاروں اور نہایت دگرگوں روڈ پر ساڑھے پانچ گھنٹے میں طے کیا۔ نصف شب کے بعد جب میں راولا کوٹ پہنچا تو زیادہ تر مکانات اور عمارتوں کو اپنی بنیادوں پر کھڑا دیکھ کر کچھ خوشگوار حیرت ہوئی۔ کشمیر کے دیگر علاقوں کے برعکس راولا کوٹ میں بجلی بھی منگل کے روز بحال ہوگئی ہے۔
اس کے علاوہ شہر کا سب سے بڑے ہسپتال کمبائینڈ ملٹری ہسپتال یعنی سی ایم ایچ راولا کوٹ بھی مکمل طور پر منہدم ہو چکا تھا اور اس میں درجنوں فوجیوں کی ہلاکت کی تصدیق ہو چکی ہے۔ اس ہسپتال میں کسی کو جانے نہیں دیا جا رہا اور کہا یہ جا رہا ہے کہ سی ایم ایچ میں کام ہو رہا ہے۔
زلزلے والے روز شہر کے سکولوں اور کالجوں میں عام تعطیل تھی۔ صرف لڑکوں کے ایک کالج کیپٹن حسین شہید کالج کے زمین بوس ہونے کی وجہ سے فرسٹ ایر کی ایک پوری کلاس ملبے تلے دب گئی تھی جو اس روز پرچہ دینے کے لیے کالج آئی تھی۔ اس کلاس کے سات طلبہ ہلاک اور پچیس زخمی ہوئے۔
راولا کوٹ میں لوگوں کا ایک ہی مطالبہ ہے کہ ان کے پاس خوراک اور ادویات موجود ہیں اور صرف ان کو خیموں کی ضرورت ہے۔ امدادی سامان بڑی تعداد میں راولا کوٹ پہنچ چکا ہے اور اب اسے وہاں سے باغ بھیجا جا رہا ہے۔
راولاکوٹ میں مرنے والوں کی تعداد کے بارے میں کہا جا رہا ہے کہ یہ تعداد پانچ سو تک ہے۔اس میں وہ ہلاک شدگان بھی شامل ہیں جو راولا کوٹ کے مضافاتی گاؤں علی سوجل اور ہجیرہ میں زلزلے سے ہلاک ہوئے۔