Wednesday, 12 October, 2005, 16:05 GMT 21:05 PST
ادریس بختیار
بی بی سی، اسلام آباد
زلزلے سے متاثرہ علاقوں میں امدادی کارروائیوں کا جائزہ لینے کے لیے بدھ کو قومی سلامتی کونسل کا ایک ہنگامی اجلاس ہوا۔
صدر جنرل پرویز مشرف کے زیر صدارت قومی سلامتی کونسل کے اس اجلاس میں سرحد کے وزیر اعلیٰ اکرم خان درانی پہلی دفعہ شریک ہوئے۔ بعد میں انہوں نے بتایا کہ صدر نے صوبہ سرحد کے متاثرین کے لیے ایک ارب روپے کی امداد کا اعلان کیا ہے۔
حکومت پچاس کروڑ روپے کی امداد پہلے ہی دے چکی ہے۔
ادھر فوج کے ترجمان میجر جنرل شوکت سلطان نے بتایا ہے کہ بیس ہزار کلومیٹر کے علاقے میں تینتیس لاکھ لوگ متاثر ہوئے ہیں جن میں سے بیس لاکھ سے زیادہ کشمیر میں ہیں۔
انہوں نے بتایا کہ تباہ شدہ علاقوں میں فوج کے پچاس ہزار جوان اور اور بڑی تعداد میں رضا کار امدادی کاموں میں حصہ لے رہے ہیں۔
وزیر اعظم کا دورہ
وزیر اعظم شوکت عزیز نے بھی بدھ کو متاثرہ علاقوں کا دورہ کیا۔ انہوں نے کہا کہ وادی نیلم بہت بری طرح متاثر ہوئی ہے اور وہاں بہت کام کرنے کی ضرورت ہے جبکہ وادی جہلم تک کا راستہ کل تک کھول دیا جائے گا۔
![]() | |
| وزیر اعظم شوکت عزیز مظفرآباد میں |