http://bbc.com.im/urdu/

Tuesday, 11 October, 2005, 15:25 GMT 20:25 PST

ذولفقار علی
بی بی سی اردو ڈاٹ کام مظفر آباد

دیہاتوں کےدیہات اجڑ گئے

کشمیر کے دارالحکومت مظفرآباد کے اردگرد کے علاقوں سے موصول ہونے والی اطلاعات کے مطابق اس علاقے میں بہت سے دیہاتوں میں زلزلے سے وسیع پیمانے پر تباہی ہوئی ہے جہاں اب تک کوئی رسائی نہیں ہوسکی اور ان کا رابط ملک کے باقی علاقوں سے منقطع ہے۔

میلوں پیدل سفر کرکے مظفرآباد پہنچے والے لوگوں نے بی بی سی کے نامہ نگار کو بتایا کہ زلزلے سے ہونے خوفناک تباہی ہوئی ہے اور اس کا اندازہ لگانا مشکل ہے۔

ایک دیہاتی نے جو نیلم ویلی سے میلوں کا سفر کر کے مظفرآباد پہنچا تھا بتایا کہ اس کے خاندان کے تیس لوگ زلزلے میں ہلاک ہو گئے۔

پاکستان فوج کے بریگیڈیئر اشرف نے بی بی سی کو بتایا کہ اس علاقے میں ہونے والی جانی نقصان کے بارے میں کوئی اندازہ لگانا مشکل ہے۔

انہوں نے کہا کہ بہت سے علاقوں تک ابھی تک رسائی نہیں ہوسکی۔

تاہم ایک محتاط اندازے کے مطابق صرف مظفرآباد، راولاکوٹ اور باغ میں بیس ہزار سے زیادہ لوگوں کے ہلاک ہونے کا اندیشہ ہے۔

مظفرآباد میں اس نگہانی آفت کے چوتھے روز امدادی کاموں میں کچھ تیزی دیکھنے میں آئی جب مختلف ملکوں سے امدادی ٹیمیں مظفرآباد پہنچ گئی۔

ان میں جاپان، جرمنی، فرانس اور ہالینڈ سے آنے والی امدادی ٹیمیں شامل ہیں۔

ابھی تک یہ ہی اندازہ نہیں لگایا جا سکا کہ گزشتہ تین دنوں میں مظفرآباد میں کتنی لاشیں دفنائی گئی ہیں۔

منگل کو شدید بارشوں سے موسم میں آنے والی تیدیلی سے لوگوں کی مشکلات میں مزید اضافہ ہو گیا ہے۔ گزشتہ تین دنوں سے ہزاروں لوگ کھلے آسمان تلے راتیں گزار رہے ہیں۔