Tuesday, 11 October, 2005, 12:19 GMT 17:19 PST
عدنان عادل
بی بی سی اردو ڈاٹ کام، ایبٹ آباد
بالاکوٹ اور گڑھی حبیب اللہ کی آٹھ اکتوبر کے زلزلےمیں ہونے والی تباہی کو تو میڈیا کی خاصی کوریج مل گئی لیکن ضلع مانسہرہ اور ایبٹ آباد کے دور دراز کے بہت سے علاقے ایسے ہیں جہاں کے رہنے والے یا تو مر گئے یا زخمی اور بے گھر ہوگئے لیکن وہ اب تک مناسب توجہ حاصل نہیں کرسکے اور نہ ان جگہوں پر قابل ذکر امدادی کاروائیاں شروع ہوسکی ہیں۔
صوبہ سرحد میں زلزلے سے جو اضلاع متاثر ہوئے ہیں ان میں ایبٹ آباد، مانسہرہ، بٹگرام اور کوہستان خاص طور پر شامل ہیں۔ ان علاقوں میں متاثرہ افراد کی تعداد کا اندازہ تقریباً پانچ لاکھ لگایا جاتا ہے۔ ان میں سے کچھ علاقوں کو جانے والی سڑکیں زمین کے بہاؤ (لینڈ سلائڈ) سے بند ہیں اور کچھ آج کھول دی گئی ہیں۔
ایبٹ آباد کے علاقہ سرکل بکوٹ سے ملنے والی اطلاعات کے مطابق چہانگل گاؤں میں لڑکیوں کے ایک اسکول کی عمارت گرنے سے پچاس طالبات ہلاک ہوئی ہیں۔ وادی پکھل میں سینکڑوں کچے مکانات منہدم ہوگئے ہیں اور آج تیسرے روز بھی میتیں ملبے سے نکالی جارہی ہیں۔ مقامی لوگوں کا کہنا ہے ان جگہوں پر کئی دیہات صفحہ ہستی سے مٹ گئے ہیں۔
بالاکوٹ کے لوگوں کا خیال ہے کہ یہاں کے پہاڑوں میں زلزلہ کا مرکز تھا اور اسی وجہ سے یہاں وقفہ وقفہ سے زلزلہ کے ہلکے جھٹکے اب بھی محسوس کیے جارہے ہیں۔ مانسہرہ ضلع میں ہزاروں کی تعداد میں مویشی بھی ہلاک ہوئے ہیں جن کی لاشیں گلنا سڑنا شروع ہوگئی ہیں اور جگہ جگہ بدبو پھیل رہی ہے۔
ایبٹ آباد، مانسہرہ، ہری پور، راولپنڈی اور اسلام آباد کے تمام سرکاری اور نجی ہسپتال زخمیوں سے بھرے ہوئے ہیں اور ان کی استعداد سے زیادہ مریض وہاں زیرعلاج ہیں۔ ایبٹ آباد کے ایوب میڈیکل کمپلکس میں خیموں میں مریضوں کا علاج کیا جارہا ہے۔
اکثر مقامی لوگوں کا کہنا ہے کہ اس وقت ہر متاثرہ قصبہ میں خیمہ بستیاں بنانے کی ضرورت ہے۔