Monday, 10 October, 2005, 10:05 GMT 15:05 PST
پاکستان میں اب تک زلزلے سے اکیس ہزار کے قریب افراد کی اموات کی سرکاری طور پر تصدیق کی جا چکی ہے جبکہ اقوامِ متحدہ کے ادارے یونیسف کا کہنا ہے کہ مرنے والوں کی تعداد تیس سے چالیس ہزار کے درمیان ہو سکتی ہے۔
زلزلے سے متاثرہ علاقے میں موجود بی بی سی کے نمائندوں ہمیں مسلسل آڈیو اور تحریری شکل میں تازہ ترین رپورٹیں بھیج رہے ہیں۔
مظفرآباد سے ظفر عباس، صبح 06:45 پاکستان ٹائم
مظفر آباد اور بدترین تباہی کا شکار ہونے والے دوسرے علاقے ایک ہولناک منظر کی تصویر بنے ہوئے ہیں۔ لاکھوں لوگ بے گھر ہو چکے ہیں۔ میلوں تک پھیلے ہوئے ملبے سے تعفن اٹھ رہا ہے اور اگر فوری طور پر لاشوں کو ملبے سے نہیں نکالا گیا تو پورے علاقے میں بیماریاں پھیلنے کا شدید خطرہ ہے۔
مرنے والوں کی تعداد میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے اور خدشہ ظاہر کیا جارہا ہے اگر ہنگامی بنیادوں پر لوگوں کی مدد نہ کی گئی تو انسانی جانوں کا ضیاع بہت زیادہ ہوجائے گا۔
پیر کو متاثرہ لوگوں نے تیسری رات بھی کھلے آسمان کے نیچے گزاری۔ لوگ حکومت سے کافی ناراض ہیں کیونکہ ان کا کہنا ہے کہ اگر بروقت اقدام کیا جاتا تو مزید جانیں بچائی جا سکتی تھیں۔
باغ ، کشمیر میں اعجاز مہر کی لوگوں سے بات چیت، شام 8:00 پاکستان ٹائم
شاہ زیب جیلانی، باغ، کشمیر شام 7:00 پاکستان ٹائم
مبشر زیدی، مارگلہ ٹاور، اسلام آباد، دوپہر 1:45 پاکستان ٹائم
ظفر عباس، مظفرآباد: 12:30 پاکستان ٹائم
امدادی کام میں تیزی آئی ہے اور میں نے دو غیر ملکی امدادی ٹیموں کو پاک فوج کے ہمراہ کام کرتے دیکھا ہے۔ ایک ٹیم ترکی کی ہے اور دوسری کا تعلق برطانیہ سے ہے۔ برطانوی ٹیم نے صبح ملبے سے ایک بارہ سالہ لڑکے کو زندہ نکال لیا۔ اس سے امید ہو چلی ہے کہ مزید افراد کو بھی بچایا جا سکتا ہے۔ امدادی ٹیم اس سکول بھی گئی جہاں 500 بچے کنکریٹ کے نیچے دفن ہو گئے ہیں لیکن وہاں زندگی کے کوئی آثار نہیں ہیں۔ یہاں ماحول میں افراتفری، غصہ اور اشتعال پایا جاتا ہے اور عوام کو خوراک، پانی اور فوری طبّی امداد کی ضرورت ہے۔
لیِز ڈوسیٹ، اسلام آباد12:10 پاکستان ٹائم
زلزلے کے دو دن بعد بھی اس تباہی کا اندازہ لگنا مشکل ہے۔ اسلام آباد میں لاشوں کی گنتی جاری ہے۔ پچھلے چند گھنٹوں میں امدادی ٹیموں نے دو مزید لاشیں نکالی ہیں اور جائے حادثہ کے آس پاس فکرمند لوگ اپنے پیاروں کے بارے میں کسی خبر کے منتظر ہیں۔
شمالی پاکستان میں حالات اور بھی بدتر ہیں۔ اس علاقے میں چالیس لاکھ افراد رہتے ہیں اور وہاں گاؤں کے گاؤں صفحۂ ہستی سے مٹ گئے ہیں۔ بہت سے علاقوں میں فوج کسی بھی طریقے سے پہنچ نہیں سکی ہے۔
اینڈریو نارتھ، بالاکوٹ:10:15 پاکستان ٹائم
بالا کوٹ میں اسلام آباد کی مانند کوئی سپیشلسٹ امدادی ٹیم نہیں ہے۔ یہاں صرف مقامی افراد ہی موجود ہیں اور تمام صبح ملبے سے لاشیں نکالی جاتی رہی ہیں۔ علاقے میں بدبو پھیل رہی ہے اور یہ خیال عام ہے ملبے میں ہزاروں افراد دفن ہیں۔
سڑک مٹی کے تودے گرنےسے بند ہے اور پاکستان فوج کی ایک ٹیم سڑک صاف کرنے میں مصروف ہے۔ مسئلہ یہ ہے کہ بالاکوٹ کے مزدیک سڑک اتنی تباہ ہو چکی ہے کہ گاڑیوں کا یہاں پہنچنا بہت مشکل ہے اور یہاں ہیلی کاپٹروں کی ضرورت ہے۔ کچھ ہیلی کاپٹر یہاں امدادی سامان لا رہے ہیں لیکن وہ بھاری مشینری کی ترسیل سے قاصر ہیں۔
عامر احمد خان، مظفر آباد: 10:00 پاکستان ٹائم
میں جب بھی باہر نکلتا ہوں تو مجھے پہلا احساس یہ ہوتا ہے کہ عوام مشتعل ہو رہے ہیں۔ ایسا لگتا ہے کہ یہ اشتعال دن بھر جاری رہے گا۔ لوگ ہر چیز سے اور ہر کسی سے ناراض ہیں۔ کل تک بہت سے ایسے لوگ تھے جنہیں یہ امید تھی کہ حکام جلد ان کی مدد کو آئیں گے۔ آج ان کی آنکھوں میں بھی صرف غصہ ہے۔ ان آنکھوں میں نفرت ہے۔ فطرت کے خلاف، پاکستان کے خلاف اور اپنے اوپر بیتنے والی مصیبت کے خلاف۔
بچنے والے افراد یہ سوچنے پر مجبور ہیں کہ کیا وہ خوش قسمت ہیں؟ زیادہ تر افراد نے اپنی گاڑیوں میں یا باہر رات گزاری ہے۔ کل تک جو بچے پرجوش تھے آج تھکے ہوئے دکھائی دے رہے ہیں۔ چند افراد ہی رات کو سو سکے ہیں۔ رات دو بج کر تیس منٹ پر زلزلے کا ایک بڑا جھٹکا آیا اور چار بجے اس سے بھی بڑا۔
جن لوگوں کا پاکستان میں اپنے عزیزوں سے رابطہ ہوا ہے۔ وہ میڈیا پر چلنے والی امدادی کارروائیوں کی خبروں کے بارے میں جان کر بھی غصے میں ہیں۔ ایک شخص اتنا غصے میں تھا کہ اس کی آواز نہیں نکل رہی تھی۔ اس کا کہنا تھا کہ ’ آپ یہاں ہیں۔ آپ نے سب کچھ دیکھا ہے۔ امدادی کارروائیوں کہاں ہیں؟‘۔
مظفر آباد میں صرف ایک بلڈوزر ملبہ ہٹانے کا کام کر رہا ہے۔ سڑکوں پر بدبو پھیل رہی ہے اور جو ملبے کے نیچے ہے اس کے بارے میں کوئی بات کرنے کو تیار نہیں۔
ظفر عباس، مظفرآباد: 9:30 پاکستان ٹائم
مائیک ولرج، اسلام آباد:9:10 پاکستان ٹائم
اینڈریو نارتھ، بالاکوٹ: 8:42 پاکستان ٹائم