http://bbc.com.im/urdu/

Wednesday, 14 September, 2005, 18:25 GMT 23:25 PST

صدرمشرف کا شیرون سے مصافحہ

صدر پرویز مشرف اور اسرائیلی وزیر اعظم ایرئیل شیرون نے اقوام متحدہ کے دفاتر میں غیر رسمی ملاقات کی ہے۔

اسرائیلی ٹیلی ویژن کے مطابق پاکستان کے صدر مشرف اور ایرئیل شیرون کی اقوام متحدہ کی عمارت کی راہ داریوں میں ملاقات ہوئی۔ صدر مشرف نے اپنی بیوی صاحبہ مشرف کا ایرئیل شیرون سے تعارف کرایا۔

دونوں ملکوں کے رہنماء اقوام متحدہ کی سالانہ اجلاس میں شرکت کے لیے نیویارک میں ہیں۔
 صدر مشرف نے کہا تھا کہ مسلم دنیا کو اسرائیل کے وجود کو ایک زمینی حقیقت کے طور پر تسلیم کر لینا چاہیے۔
 

پاکستان اور اسرائیل کے سفارتی تعلقات نہیں ہے لیکن دونوں ملکوں کے درمیان کچھ عرصے سے رابطے جاری ہیں۔ پاکستان اور اسرائیل کے وزارئے خارجہ کی پہلی ستمبر کو ترکی کے شہر استنبول میں ملاقات ہوئی تھی۔

اسرائیلی اخبارات میں صدر مشرف اور وزیر اعظم شیرون کے مابین ہونے والی ملاقات سے متعلق خبروں کو بہت نمایاں طور پر شائع کیا ہے۔

اسرائیلی اخبار ہارٹز کے مطابق یکم ستمبر کو استنبول میں ملاقات کرنے والے دونوں ملکوں کے وزرائے خارجہ کے مابین اقوام متحدہ کے سربراہی اجلاس کے دوران ملاقات نہیں ہوگی۔ تاہم فریقین نے اس بات پر آمادگی ظاہر کی تھی کہ ان کا ماتحت سفارتی عملہ رابطہ برقرار رکھے گا اور ان کی وزارتیں رابطے کا کوئی طریقہ کار طے کرے گا۔

اخبار کے مطابق یروشلم استنبول کی ملاقات کو پاکستان کی طرف سے اسرائیل کو تسلیم کرنے کے مترادف تصور کرتا ہے اور صدر مشرف نیویارک آمد سے پہلے واشنگٹن میں اخبار نویسوں سے ملاقات کے دوران اس تاثر کو مزید تقویت دی۔ اخبار نویسوں کے ساتھ اپنی بات چیت میں صدر مشرف نے کہا تھا کہ مسلم دنیا کو اسرائیل کے وجود کو ایک زمینی حقیقت کے طور پر تسلیم کر لینا چاہیے۔