Tuesday, 13 September, 2005, 15:14 GMT 20:14 PST
علی سلمان
بی بی سی اردو ڈاٹ کام لاہور
پنجاب کے ایک شہر منڈی بہاؤالدین میں والدین اور دو بھائیوں کو سوتے میں کلہاڑی کے وار کرکے قتل کر نے میں ملوث دو نوجوان بہنوں نے مبینہ طور پر پولیس کے روبرو اعتراف جرم کر لیا ہے اور کہا ہے کہ انہوں نے اپنے والدین کی بدسلوکی کا بدلہ لینے کے لیے انہیں قتل کیا ہے۔
لاہور سے کوئی سوا سو کلومیٹر کے دور منڈی بہاؤالدین کےنواحی گاؤں کٹھیالہ شیخاں میں مقامی زمیندار سکندر رانجھا ان کی اہلیہ فاطمہ اور ان کے دو جوان بیٹوں سیف اور سمیع اللہ کی لاشیں پیر کی صبح ان کے گھر سے اس حالت میں برآمد ہوئیں کہ ان کے جسم پر خاص طور پر گلے پر کلہاڑی کے وار کیے گئے تھے جبکہ سکندر کی دو بیٹیاں تیس سالہ آسیہ، بائیس سالہ خنسہ اور چھ سالہ بیٹا زکریا غائب تھے۔
تھانہ کٹھیالہ شیخاں کے سٹیشن ہاؤس آفیسر انسپکٹر طارق محمود وڑائچ نے بتایا کہ یہ لڑکیاں اپنے بھائی کو لیکر قریبی گاؤں اپنے ننھیال چلی گئی تھیں اور ان کے رشتہ داروں کی اطلاع پر ہی انہوں نے دونوں بہنوں کو گرفتار کر لیا۔
پولیس کا کہنا ہے کہ دونوں بہنوں نے اعتراف جرم کر لیا ہے۔
پولیس انسپکٹر نے بتایا کہ لڑکیوں نے جو بیان قلمبند کرایا ہے اس کہ مطابق انہیں اپنے والدین کی بدسلوکی کا شکوہ تھا وہ کہتی تھیں کہ ’ان کے والد معمولی بات پر انہیں ڈنڈے سے پیٹتے تھے ان سے شفقت کا سلوک نہیں رکھتے تھے۔‘
بڑی بہن آسیہ نے پولیس کو کہا کہ ’اس کی قریبی گاؤں میں رشتے کی بات چل رہی تھی اورایک دن وہ لوگ انہیں ملنے آئے تو ان کی صحیح خاطر تواضع نہیں کی جس پر انہوں نے واپس جاکر رشتہ توڑ دیا۔‘
پولیس کے مطابق ان کی ایک تیسری بہن بھی تھی جو جسمانی اور ذہنی طور پر مفلوج تھی اور ہر وقت اذیت میں رہتی تھی۔
ان دونوں ملزم بہنوں کا کہنا ہے کہ ’ان کے والدین اس کا صیح طور پر علاج نہیں کراتے تھے اس لیے وہ شدت تکلیف سے چلاتی رہتی تھیں‘۔
ان بہنوں نے الزام عائد کیا کہ ان کے والد اس کے شور سے بچنے کے لیے ہر وقت ان کی اس بہن کو نشے کی گولیاں دیتے رہتے تھے حالانکہ ڈاکٹر نے ایسا کرنے سے منع بھی کیا تھا انہی گولیوں کی وجہ سے وہ مرگئی۔
پولیس کے مطابق دونوں بہنوں نے بچی ہوئی وہی گولیاں اپنے والدین اور بھائیوں کو کھلادی تھیں جس سے وہ بے ہوش ہوگئے اورلڑکیوں نے مبینہ طور پر کلہاڑ ی کے وار کرکے چاروں کو قتل کر دیا۔ پولیس کے مطابق ’لڑکیوں کو رنج تھا کہ ان کےدونوں بھائی اپنے والدین کاساتھ دیتےتھے۔‘
پولیس انسپکٹر کا کہنا ہے کہ لڑکیاں مایوسی کاشکار تھیں ان کہنا تھا کہ نہ انہیں یہ امید تھی کہ ان کی شادیاں ہوپائیں گی اورنہ ہی انہیں اپنے والدین
سےکسی اچھے سلوک کی توقع رہی تھی۔
دونوں لڑکیوں کو عدالتی تحویل میں جیل بھجوادیاگیا ہے لاشیں پوسٹ مارٹم کے بعد مقامی قبرستان میں دفن کردی گئی ہیں۔
مقدمہ کا مدعی لڑکیوں کا چچا اور مقتول سکندر کا بھائی منور اقبال ہے۔