Saturday, 03 September, 2005, 14:25 GMT 19:25 PST
ریاض سہیل
بی بی سی اردو ڈاٹ کام کراچی
پاکستان میں پولیو کے خاتمے پر ایک بڑی رقم خرچ کرنے اور پچاس راونڈ کرنے کے بعد ایک مرتبہ پھر اکتیس دسمبر کو پولیو کے خاتمے کی آخری تاریخ مقرر کی گئی ہے۔
اس سے قبل سن دو ہزار اور سن دو ہزار دو میں ایسی ڈیڈ لائن مقرر کی گئی تھی۔ جسے پورا کرنے میں پاکستان ناکام رہا تھا۔
سن دو ہزار میں دو سو کے قریب اور سن دو ہزار دو میں نوے کیس سامنے آ ئے تھے۔ اس سال آٹھ ماہ میں بارہ مریض سامنے آ ئے ہیں جن میں سے دو سندھ کے ہیں۔
سندھ کے وزیر صحت شبیر قائم خانی نے ایک پریس کانفرنس میں بتایا کہ پولیو کے خاتمے کے لیے ملکی سطح پرایکشن پلان بنایا جارہا ہے۔
اس ضمن میں چھ ستمبر کوچاروں صوبوں کا ایک اجلاس منعقد کیا گیا ہے۔ جس میں محکمہ صحت کے چاروں وزراء اور سیکریٹری شرکت کریں گے۔ اس اجلاس میں پلان بنایا جائےگا۔
انہوں نے تصدیق کی کہ پولیو کے خاتمے کے لیے پاکستان پر بہت دباؤ ہے کہ اکتیس دسمبر تک ملک سے پولیو کا خاتمہ کیا جائے۔
قائم خانی نے بتایا کہ کبھی کبھی تین سالوں کے بعد بھی پولیو کے کیسز سامنے آتے ہیں۔ یمن اور انڈونینشیا میں ایساہوچکا ہے۔ اس لیے حکومت چاہتی ہے کہ اسےمستقل طور پرختم کیا جائے۔
صوبائی وزیر نے بتایا کہ پاکستان میں پولیو کے خاتمے کی مہم کے پچاس راونڈ ہوچکے ہیں پھر بھی اس کا خاتمہ نہیں ہوسکا ہے۔
عالمی ادارہ صحت کے نمائندے ڈاکٹر ایم آزمودے نے بی بی سی کو بتایا کہ عالمی سطح پر پولیو کے خاتمے کی ڈیڈ لائن اکتیس دسمبر مقرر کی گئی ہے۔
اس مہم کے کمزور پہلوؤں کے بارے میں انہوں نے کہا کہ عوام کو اس کے بارے میں روشناس نہیں کیا گیا۔ پاکستان کے نصاب میں پولیو کے بارے میں کوئی معلومات نہیں ہے۔ مذہبی علماء بھی لوگوں کو اس کے بارے میں کوئی معلومات نہیں دے رہے ہیں۔
یونیسیف سندھ کی چیف رعنا سید نے بی بی سی کو بتایا کہ اس مہم میں بہتری آئی ہے اور سندھ میں پولیو کےصرف دو کیس سامنے آئے ہیں۔ انہوں نے امید ظاہر کی کہ پاکستان پولیوسے پاک ہوجائےگا۔