Thursday, 01 September, 2005, 07:06 GMT 12:06 PST
اعجاز مہر
بی بی سی اردو ڈاٹ کام، اسلام آباد
پاکستان اور بھارت کےدرمیان تعلقات کومعمول پر لانے کے لیے اب تک کے مذاکرات میں ہونے والی پیش رفت کا جائزہ لینے کے لیے خارجہ سکریٹریوں کی سربراہی میں وفود کی سطح پر دفتر خارجہ میں باضابطہ بات چیت شروع ہوگئی ہے۔
بھارتی وفد کی قیادت شیام سرن جبکہ پاکستانی وفد کی قیادت ریاض محمد خان کر رہے ہیں۔ آج ہونے والے مزاکرات کے بارے میں شام کو بریفنگ دی جائے گی۔
حکام کا کہنا ہے کہ اس بات چیت میں جہاں مسئلہ کشمیر، سیاچن، سرکریک اور اعتماد کی بحالی کے لیےاقدامات سمیت آٹھ نکات پر ہونے والی بات چیت کا جائزہ لیا جائےگا وہاں ان مذاکرات کو آگے بڑھانے کے لیےحکمت عملی پر بھی غور ہوگا۔
خیال کیا جارہا ہے صدر جنرل پرویز مشرف اور وزیراعظم منموہن سنگھ کے درمیان ستمبر میں ہونے والی ملاقات پر بھی اس ملاقات میں غور ہوگا۔ صدر مشرف اور وزیراعظم منموہن کے درمیان یہ ملاقات نیو یارک میں ہونے والی ہے۔
بھارت کے خارجہ سیکریٹری شیام سرن تین روزہ دورے پر بدھ کو جب اسلام آباد پہنچے تو ان کے پاکستانی ہم منصب ریاض محمد خان نے ان کا خیر مقدم کیا۔
خارجہ سیکریٹریوں کی سطح پر جائزہ لینے کے بعد ان کی سفارشات کی روشنی میں دونوں ممالک کے وزراء خارجہ اکتوبر کے پہلے ہفتے میں اسلام آباد میں طے شدہ ملاقات میں فیصلہ کریں گے۔
پاکستان اور بھارت کے خارجہ سیکریٹریوں کے درمیان اس وقت ملاقات ہو رہی جب دونوں ممالک کے داخلہ سیکریٹریوں کے درمیان محض دو روز قبل دلی میں ایک دوسرے کےغیرفوجی قیدی اور مچھیرے بارہ ستمبر تک رہا کرنے پر اتفاق ہوچکا ہے۔
بعض مبصرین کا خیال ہے کہ قیدیوں کی رہائی کے بارے میں ہونے والی اس مثبت پیش رفت کے بعد خارجہ سیکریٹریوں کے درمیان ہونے والی بات چیت میں بھی مزید پیش رفت کی توقعات کی جاسکتی ہیں۔