Wednesday, 17 August, 2005, 02:25 GMT 07:25 PST
علی سلمان
بی بی سی اردو ڈاٹ کام لاہور
متحدہ عرب امارات سے اونٹ ریس میں استعمال ہونے والے تیس پاکستانی بچے لاہور پہنچ گئے ہیں جبکہ ان کے ساتھ آنے والے ان پنتالیس مردوں اور عورتوں کو شامل تفتیش کر لیا گیا ہے جو ان کے ہمراہ ابو ظہبی سے پاکستان لوٹے ہیں۔
پاکستانی بچے منگل کی صبح لاہور ائیر پورٹ پر پہنچے تو پاکستانی حکام انہیں بچوں کے فلاح وبہبود کے سرکاری ادارے میں لے آئے اونٹ ریس میں بطور جوکی استعمال کیے جانے والے یہ بچے عرب ریاستوں میں اونٹوں سے ڈرتے بھی رہے اور روتے بھی رہے۔
ایک پانچ سالہ بچے جہانگیر خان نے کہا کہ ’مجھے پہلے اونٹ سے ڈر لگتا تھا اور میں روتا بھی تھا لیکن پھر میں اونٹ کو زور سے پکڑلیتا پھر میں گرتا بھی نہیں اور روتا بھی نہیں تھا۔‘
اسی کے ہم عمر ایک بچے ساجد منیر نے کہا کہ ’وہ مجھے کہتے تھےکہ اونٹ کو پیار کرو اونٹ سرکس کرتا تھا مجھے ڈر لگتا تھا پھر میری امی ابو آئے انہوں نے مجھے کھانا کھلایا پھر کھانا ختم ہوگیا ، صبح ہوئی تو وہ چلے گئے میں بس اونٹ کوزور سے پکڑ لیتا تھا اس لیے نہیں گرتا تھا۔‘
حال میں یونیسف نے اونٹ ریس کے منتظمین کو اس بات پر رضا مند کر لیا ہے کہ ریس میں اونٹ پر بچوں کی بجائے روبوٹ بٹھائے جائیں۔
اس فیصلے کے بعد پاکستانی بچے واپس بھیجے جا رہے ہیں۔اس سے پہلے ایک سو بائیس بچے وطن واپس آچکے ہیں ایک پاکستانی افسر زبیر احمد شاد کہتے ہیں ان میں سے اٹھانوے بچے ان کے والدین کو لوٹائے جاچکے ہیں تین چارکے کیس عدالتوں میں زیرِ سماعت ہیں جبکہ باقی بچوں کے والدین کا تاحال سراغ نہیں مل سکا۔ انہوں نے کہا کہ جن کے والدین کا علم نہیں ہوسکے گا وہ چائلڈ پروٹیکشن بیورو کے زیر انتظام اداروں میں زندگی بسر کریں گے۔
ان بچوں کے ہمراہ آنے والے پنتالیس مرد اور عورتیں امیگریشن حکام کی حراست میں ہیں۔ حکام کا کہنا ہے کہ تفتیش کے بعد بچوں کے حقیقی والدین کو چھوڑ دیا جائے گاجبکہ بردہ فروش یا ایجنٹوں کے خلاف کارروائی ہوگی۔
کل یعنی بدھ کی شام پاکستانی بچوں کا ایک اور گروپ پاکستان لوٹ رہا ہے۔
عرب ریاستوں میں ابھی بھی کتنے بچے موجود ہیں اس کا بالکل درست اندازہ پاکستانی حکام کو بھی نہیں ہے لیکن ان کا خیال ہے کہ یہ تعداد دو سے تین ہزار کے درمیان ہوسکتی ہے۔