Sunday, 14 August, 2005, 14:39 GMT 19:39 PST
عزیزاللہ خان
بی بی سی اردو ڈاٹ کام کوئٹہ
بلوچستان کے شہر کوہلو میں آج یوم آزادی پر نامعلوم افراد نے کم سے کم نو راکٹ داغے ہیں اور دو دھماکوں کی اطلاع موصول ہوئی ہے لیکن کسی قسم کا کوئی جانی نقصان نہیں ہوا ہے۔
کوئٹہ کے مشرق میں کوئی ساڑھے تین سو کلومیٹر دور کوہلو کے علاقے میں رات دو بجے سے راکٹ داغنے کے سلسلہ شروع ہوا جو وقفے وقفے سے صبح تک جاری رہا۔ یہ راکٹ جندران پہاڑی سے داغے گئے جو کھلے میدانوں میں گرے۔ اس کے علاوہ کوہلو کے ایک سکول میں دھماکہ ہوا ہے جس سے عمارت کو نقصان پہنچا ہے۔ کوہلو کے انتظامی افسر اکبر مری نے کہا ہے کہ نو راکٹ داغے گئے ہیں لیکن کسی قسم کا کوئی جانی نقصان نہیں ہوا ہے۔ فرنٹئئر کور کے اہلکاروں نے جوابی کارروائی کرتے ہوئے چار راکٹ داغے ہیں۔ اس کے علاوہ ایک دھماکہ شناختی کارڈ کے دفتر کے باہر بھی ہوا ہے لیکن اس کی تصدیق نہیں ہوئی ہے۔
لورالائی سے صحافی امانت حسین نے بتایا ہے کہ گزشتہ روز بارکھان کے علاقے میں چار بجلی کے کھمبے دھماکوں سے اڑا دیے گئے تھے جس سے کوہلو کو بجلی کی ترسیل منقتع ہو گئی ہے۔
![]() بلوچستان میں راکٹ داغنے کے واقعات اکثر ہوتے رہتے ہیں |
اس کے علاوہ یہاں بلوچ سٹوڈنٹس آرگنائزیشن متحدہ کے چیئرمین امداد بلوچ نے کہا ہے کہ وہ چودہ اگست یوم سیاہ کے طور پر منائیں گے ۔ انہوں نے کہا ہے کہ بلوچ کارکن غیر قانونی طور پر گرفتار ہیں جن کی رہائی کے لیے دس ستمبر سے احتجاجی تحریک شروع کی جائے گی۔