Saturday, 13 August, 2005, 17:45 GMT 22:45 PST
علی سلمان
بی بی سی اردو ڈاٹ کام لاہور
کل پاکستان اقلیتی اتحاد کے سربراہ شہباز بھٹی نے کہا ہے کہ بلدیاتی انتخابات میں اقلیتی امیدواروں کو مختلف قسم کی مشکلات کا سامنا ہے جن میں سب سے بڑی پریشانی یہ ہے کہ حکمران جماعت اپنے حمایت یافتہ امیدواروں کو کامیاب کرانے کے لیے غیر جمہوری حربے استعمال کر رہی ہے اور مخالف امیدواروں کو ہراساں کیا جارہا ہے۔
وہ سنیچر کو لاہورمیں چند اقلیتی اراکین صوبائی اسمبلی کے ہمراہ ایک پریس کانفرنس سے خطاب کر رہے تھے۔
انہوں نے کہا کہ قواعد و ضوابط کے مطابق تو ہر ووٹر نے خواہ وہ مسلم ہویا غیر مسلم چھ ووٹ دینے ہیں اور اقلیتی ووٹر میں کوئی امتیاز نہیں ہے لیکن لوگوں کی بڑی تعداد اس بارے میں ابہام کا شکار ہے جس کا نقصان اقلیتی امیداوروں کی انتخابی مہم پر منفی انداز میں پڑ رہا ہے۔
شہباز بھٹی نے کہا کہ انتخابات میں ہونے والی دھاندلی اور حکومتی مشینری کی مبینہ مداخلت کے بارے میں وہ سپریم کورٹ سے از خود نوٹس لے کر مداخلت کرنے کی اپیل کرتے ہیں کیونکہ وہ سمجھتے ہیں کہ الیکشن کمشن ان بے ضابطگیوں کا ازالہ نہیں کر سکتا۔
انہوں نے سپریم کورٹ کے اس فیصلے کا خیر مقدم کیا جس کے تحت دینی مدارس کی بعض ڈگریاں رکھنے والے افراد کو الیکشن میں حصہ لینے کی مشروط اجازت دی گئی ہے اور حکومت سے مطالبہ کیا کہ مسلمان مدرسوں کی طرح عیسائیوں کی درسگاہوں کی اسناد کو بھی انتخابات کے لیے تسلیم کیا جائے۔
شہباز بھٹی نے اس موقع پر عوام دوست امیدواروں کی حمایت کا اعلان کرتے ہوئے اقلیتوں سے اپیل کی کہ وہ انہیں ووٹ دیں۔
پاکستان پیپلز پارٹی پارلیمنٹرین نے اپنے حمایت یافتہ امیدواروں کو عوام دوست کا نام دے رکھا ہے۔
پاکستان میں اقلیتوں کی مختلف تنظیموں کے اتحاد کے سربراہ شہباز بھٹی نے انتخابات کی مانیٹرنگ کے لیے ملک بھر میں کمیٹیاں قائم کر دی ہیں جو انسانی حقوق کی تنظیموں ملکی اور غیر ملکی ذرائع ابلاغ کے ساتھ ملکر انتخابی عمل پر نظر رکھیں گی۔