Tuesday, 09 August, 2005, 14:52 GMT 19:52 PST
علی سلمان
بی بی سی اردو ڈاٹ کام لاہور
پاکستان میں اقلیتی امور کے ایک سابق وفاقی وزیر ڈیرک سیپرین کو پراسرار حالات میں اغوا کرنے کے بعد قتل کر دیا گیا اور ان کی لاش لاہور کے نواحی علاقے مانگا منڈی کی ایک ندی سے برآمد ہوئی۔
ان کے قتل کے ملزموں کو فی الحال کچھ علم ہوسکا نہ ہی قتل کے محرکات کا تعین ہوسکا پولیس نے مختلف ٹیمیں بنا دی ہیں جو تفتیش کر رہی ہیں۔
پولیس کے مطابق پچاس سالہ ڈیرک سیپرین کی گمشدگی کی اطلاع ان کی صاحبزادی نے چھ اگست کو دی جب ان کی کار لاہور کے علاقے ڈیفنس میں ایک بنک کے سامنے لاوارث کھڑی ملی۔
پولیس کے مطابق ان کی صاحبزادی نے بتایا کہ وہ انہیں یوحنا آباد میں ان کے ننھیال چھوڑ کر اپنی کار میں چلے گئے تھے جس کے بعد ان کا کچھ علم نہ ہوسکا۔
ان کی صاحبزادی نے لاہور کے تھانہ ڈیفنس میں نامعلوم افراد کے خلاف ان کے اغواکا مقدمہ درج کرادیا تھا اور کہا تھا کہ انہیں چند روز سے نامعلوم افراد کی جانب سے قتل کی دھمکیاں مل رہی تھیں۔
تھانہ مانگا منڈی کے انچارج آفتاب پھلروان نے بی بی سی کو بتایا کہ آج صبح ساڑھے دس بجے کے قریب موضع مل سے گذرنے والی ندی کے پل کے نزدیک سے ایک پچاس سالہ شخص کی لاش اس حالت میں برآمد ہوئی کہ دونوں ہاتھ پشت پر رسی سے بندھے تھے اور جیبیں خالی تھیں۔ لاش مسخ ہوچکی تھی۔
انہوں نے بتایا کہ سہ پہر کو تھانہ ڈیفنس کی ٹیم ان کے ورثا کو لیکر آئی جہاں انہوں نے ا ن کے کے کپڑوں، موبائل فون کے کور اور چابیوں کے گچھے کی مدد سے ان کی شناخت کی۔
ڈیفنس تھانے کی پولیس نے مقدمہ درج کر لیا ہے اور لاش پوسٹ مارٹم کے لیے بھجوادی ہے۔
پولیس ابھی تک قاتلوں کا سراغ لگا سکی ہے نہ ہی قتل کے محرکات کا تعین ہوسکا۔
لاہور کےسینیئر سپرننٹڈنٹ پولیس عامر ذوالفقار کا کہنا ہے کہ اس پراسرار قتل کی تفتیش کے لیے خصوصی ٹیمیں تشکیل دیدی گئی ہیں۔
مقتول پیشہ کے لحاظ سے بنکار تھے اور اکتوبر انیس سو ننانوے میں پرویز مشرف کے اقتدار میں آنے کے وفاقی کابینہ میں اقلیتی امور کے وزیر مقرر ہوئے تھے۔