Saturday, 06 August, 2005, 17:49 GMT 22:49 PST
چیف الیکشن کمیشن سندھ نے بلدیاتی انتخابات کےامیدواروں کے مبینہ اغواء
کےالزامات کے حوالے سے ڈسٹرکٹ ریٹرنگ آفیسرز سے رپورٹ طلب کرلی ہے۔
انہوں نے کہا کہ مگر ریٹرنگ آفیسرز کے پاس کوئی تحریری شکایت موصول نہیں ہوئی ہے اور نہ ہی اس سلسلے میں کوئی ایف آئی آر درج کی گئی ہے۔
تاہم ان کا کہنا تھا کہ اس کے باوجود اس ضمن میں چھپنے والی خبروں کے تراشے ریٹرنگ آفیسر کو تبصرہ کے لیے بھیج دیے ہیں۔
چیف الیکشن کمیشن نےکہا کہ انہیں صوبائی انتظامیہ نےمطلع کیا ہے کہ
اندرون سندھ اور کراچی کے بعض علاقوں میں فوج الیکشن کےدن گشت کرے گی۔
چیف الیکشن کمیشن نے انتخابات سے قبل تبادلےاور تقریوں کی خبروں کی بھی تردید کی۔
ان کا کہنا تھا کہ اگر تبادلے کہیں بھی ہوئے ہیں تو انہیں منسوخ کردیاجائے گا۔ کراچی میں انتخابات کے دوران ضابطہ اخلاق کی خلاف ورزی کی شکایت کے حوالے سے انہوں نے کہا کہ کسی سیاسی جماعت کو جھنڈے لگانے اوربینر لگانے یا کارنرمیٹنگ کرنے کی اجازت نہیں ہے۔
اور اس کی خلاف ورزی پر پنجاب کی طرح کاروائی کی جائے گی۔ دوسری جانب پنجاب میں بھی چھ اضلاع کو حساس قرار دیاگیا ہے۔ جہاں بلدیاتی انتخابات میں فوج کی تعیناتی کی جائے گی۔
واضح رہے کہ اپوزیشن جماعتیں فوج کی نگرانی میں کرنے کا مطالبہ کررہی ہیں۔