Wednesday, 03 August, 2005, 17:02 GMT 22:02 PST
پاکستان کےصدر جنرل پرویز مشرف نے کہا ہے کہ پاکستان وہشت گردی سے نمٹنے کے لیے چھ نکاتی حکمت عملی اور قومی سطح پراسلام سے متعلق بحث کا بھی آغاز کیا جائےگا۔
بی بی سی کےایک پروگرام میں بات کرتے ہوئےانہوں نے کہا کہ دہشت گردی کے خلاف اس حکمت عملی میں بنیاد پرست گروپوں کے علاوہ نفرت کا پرچار کرنے والےمواد پر بھی پابندی لگائی جائے گی۔
انہوں نے کہا کہ وہ روشن خیال اور اعتدال پسند پاکستان کےتصور کوفروغ دینے کے حامی ہیں اور پاکستان پر دہشت گردی کا الزام لگائے جانے سے انہیں غصہ آجاتا ہے۔
صدر پرویز مشرف نے کہا کہ اقوام عالم کو ایک دوسرے پر دہشت گردی کےالزامات لگانے کی بجائے ملکر اس کے خلاف کام کرنا چاہیے۔
لندن میں گزشتہ ماہ ہو نے والے خودکش بم حملوں کے بعد سے پاکستانی بنیاد پرستوں کے کردار کی جانچ پڑتال شروع کر دی گئی ہے۔
ان خوکش بم حملہ آوروں کے بارے میں یہ اطلاعات تھیں کہ ان میں سے بعض
نےان حملوں سے کچھ عرصہ پہلے پاکستان کا دورہ کیا تھا۔