Friday, 22 July, 2005, 23:23 GMT 04:23 PST
پنجاب بھر میں نماز جمعہ کے دوران لاؤڈ سپیکر کے استعمال کے قانون کی خلاف ورزی کے الزام میں سینکڑوں امام مسجدوں اور خطیبوں کے خلاف مقدمات درج کر لیے گئے اور درجنوں کو گرفتار بھی کیا گیا۔ ان میں سے زیادہ تر گرفتاریاں جنوبی پنجاب میں ہوئیں۔
بی بی سی سے بات کرتے ہوئے ایک پولیس افسر نے کہا کہ مساجد میں لاؤڈ سپیکر پر عربی زبان کے علاوہ کسی اور زبان میں تقریر کرنے پر پابندی پہلے سے ہی موجود ہے۔ انہوں نے کہا کہ یہ پہلا موقع ہے کہ حکومت نے اس قانون پر سختی سے عمل کرنے کا حکم جاری کیا ہے۔
ان پرمساجد کے لاؤڈ سپیکر بے جا استعمال کرنے کا الزام عائد کیا گیا ہے۔ صدر مشرف نے جمعرات کو اپنی تقریر میں انتہا پسندی سے سختی سے نمٹنے کا اعلان کیا تھا۔
لاہورمیں چھپن مقدمات درج کیے گئے لیکن ان کے تحت تاحال کوئی گرفتاری نہیں ہوئی۔ جنوبی پنجاب میں مقدمات کے اندراج کے علاوہ ایک سو بائیس افراد حراست میں لیے گئے ہیں۔پنجاب کےدوسرے علاقوں سے بھی مقدمات درج کیے جانے کی اطلاعات ہیں۔
جنوبی پنجاب سے ملتان کے ڈی آئی جی ملک اقبال نے کہا کہ ’ان لوگوں پر مقدمات تقاریر کے متن کی وجہ سے نہیں بلکہ اردو، پنجابی اور سرائیکی میں بات کرنے کی وجہ سے درج کیے گئے ہیں جو لاؤڈ سپیکر کے قانون کے خلاف ہے‘۔