Wednesday, 13 July, 2005, 12:03 GMT 17:03 PST
ریاض سہیل
بی بی سی اردو ڈاٹ کام کراچی
حکومت نے گھوٹکی کے قریب بدھ کے روز ہونے والے ہولناک حادثے میں ہلاک شدگان کے لواحقین کے لئے دو دو لاکھ روپئے اور زخمیوں کو ہر ممکن امداد فراہم کرنے کا حکم دیا ہے۔
یہ پاکستان کی تاریخ کا پانچواں بڑا ریل حادثہ ہے۔ اس حادثے میں تین ٹرینیں آپس میں ٹکرا گئی تھیں۔
حادثے کے وقت تینوں مسافر ٹرینوں میں مجموعی طور پر دو ہزار مسافر سوار تھے۔
چیف کمرشل منیجر مقصود کے مطابق کراچی سے لاہور جانے والی تیزگام ٹرین میں چھ سو پچاس، لاہور سے کراچی جانے والی نائٹ کوچ ( کراچی ایکسپریس) میں سات سو بہتر، اور کوئٹہ جانے والی کوئٹہ ایکسپریس میں چھ سو ساٹھ مسافر سوار تھے۔
ہلاک شدگان میں سے اب تک صرف چھ اور زخمیوں میں سے تریسٹھ افراد کی شناخت کی جا سکی ہے۔
درین اثنا پاکستان ریلویز کے چیئرمن شکیل درانی نے صحافیوں سے بات چیت کرتے ہوئےحادثے میں امکانی تخریب کاری کے امکانات کو مسترد کیا ہے۔
صدر جنرل پرویز مشرف اور وزیر اعظم شوکت عزیز نے حادثے پر افسوس ظاہر کیا ہے۔
کراچی میں کینٹ اسٹیشن پر معلوماتی مرکز قائم کیا گیا ہے۔ جہاں پر ہلاک اور زخمی ہونے والوں کی ابتدائی فہرست آویزاں کردی گئی ہے۔