http://bbc.com.im/urdu/

Saturday, 02 July, 2005, 06:58 GMT 11:58 PST

ریاض سہیل
بی بی سی اردو ڈاٹ کام کراچی

29 خواتین نوبل پرائز کے لیے نامزد

دنیا کے سب سے بڑے اعزاز نوبل امن پرائز کے لیے نامزد کی گئی ایک ہزار خواتین میں سے انتیس کا تعلق پاکستان سے ہے جبکہ بھارت سے اکاون، بنگلہ ادیش سے سولہ، سری لنکا سے بارہ اور نیپال سے نو خواتین کو نامزد کیاگیا ہے۔

پاکستان سے پہلی مرتبہ خواتین کو امن نوبل پرائز کے لیے نامزد کیا گیا ہے۔

پاکستان سے نامزد خواتین میں اکثریت کا تعلق مختلف این جی اوز سے ہے۔ تاہم اس فہرست میں فن، قانون اور خدمتِ عامہ کے شعبوں سے تعلق رکھنے والی خواتین بھی شامل ہیں۔

پاکستان میں اس نامزدگی کے نگراں محمد تحسین کا کہنا ہے کہ اس چناؤ کے لئے دو ہزار تین میں سوئٹزرلینڈ میں ایک اہم اجلاس ہوا تھا، جس میں پوری دنیا کے ریجنز کے لئے بیس امن کونسلروں کی تقرری کی گئی تھی، جن کو نامزدگی کے معاملات دیکھنے تھے۔

پوری دنیا میں نوبل امن انعام کے لئے ایک ہزار خواتین کے عنوان سے یہ مہم چلائی گئی جس میں ایک سو تریپن ممالک سے 999 خواتین کو نامزد کیا گیا۔
انہوں نے بتایا کہ پاکستان میں امن ایوارڈ کی نامزدگیوں کے لئے اخبارات اور میڈیا میں اشتہارات دیئےگئے تھے۔ جولائی دوہزار چار میں نامزدگیاں مرکزی کمیٹی کو بھیج دی گئیں تھیں۔
عاصمہ کو خواتین میراتھن کے حق میں مظاہرے کے دوران پولیس نے زدوکوب کیا تھا

انہوں نے بتایا کہ پانچ اکتوبر دو ہزار پانچ کو اوسلو میں کمیٹی ان نو سو ننانوے خواتین میں سے امن ایوارڈ کی لئے نام منتخب کرےگی۔

انہوں نے کہا کہ یہ حقیقت ہے کہ زیادہ تر خواتین میں اکثر کا تعلق ڈویلپمنٹ سیکٹر سے ہے۔ مگر امن ایک فرد سے ممکن نہیں ہے۔