ریاض سہیل
بی بی سی اردو ڈاٹ کام، کراچی
کراچی شہر میں پاکستان چوک پر واقع ایک قدیمی مذہبی عمارت پر ہندؤوں اور سکھوں کے درمیان تنازع کھڑا ہوگیا ہے کہ یہ مندر ہے یا سکھوں کا گردوارہ۔
تنازعہ انیس سو ترانوے میں شروع ہوا تھا، جس کے بعد میجسٹریٹ نے اس عمارت کو سربمہر کردیا تھا۔ میجسٹریٹ کے اس فیصلے کے حلاف سکھوں نے سیشن کورٹ سے رجوع کیا اور سیل کھلوائی۔ لیکن ہندؤں کی اپیل پر سندھ ہائی کورٹ نے دوبارہ اس مذہبی مقام کو سربمہر کردیا۔ سپریم کورٹ نے بھی اس فیصلے کو برقرار رکھا۔
ہندؤں کے وکیل نیل کشور نے بی بی سی اردو ڈاٹ کام کو بتایا کہ سنہ انیس سو سینتیس سے یہ ہندؤوں کا مندر ہے۔ چونکہ ہندوؤں کوگرونانک سے بھی لگاؤ ہے، اس لیے مندر میں سکھوں کی مذہبی کتاب گرنتھ صاحب بھی رکھی جاتی ہے۔
سکھوں کے رہنما ہیرا سنگھ نے بتایا کہ یہ جائدادگرو نانک شیوا منڈلی کے زیر اہتمام ہے، اور کمیونٹی کی ملکیت ہے۔ انہوں نے کہا کہ سنہ انیس سو سینتیس میں سادھو سنگھ مینجنگ ٹرسٹ نے یہ گردوارہ تعمیر کرایا تھا۔ تقسیم کے بعد بھارت سے ہجرت کر کے آنے والے لوگ یہاں پر آ کر آباد ہوئے۔
سنہ انیس سو چھیاسی میں یہ عمارت دوبارہ گردوارے کے طور پر کھول دی گئی۔ بابری مسجد کے واقعے کے بعد ہندوؤں نے دعویٰ کیا کہ یہ مندر ہے۔ انہوں نے کہا کہ سکھوں کے مذہبی عقیدے کے مطابق بتوں کی پوجا نہیں کی جاتی۔ انہوں نے کہا کہ تمام عمارت کو سربمہر نہیں کیا گیا ہے صرف سکھوں کے حصے کو سیل کیا گیا ہے۔
ہندو وکیل نیل کشور کا کہنا ہے کہ اس وقت جو سکھ ہونے کے دعویدار ہیں وہ ہندو دھرم چھوڑ کرسکھ ہوئے ہیں۔
یاد رہے کہ دو سال قبل سندھ کے شمالی شہر ڈہرکی میں دو سو سالہ قدیم عبادت گاہ کے بارے میں تنازع کھڑا ہوگیا تھا کہ یہ مندر ہے یا گردوارہ یا کسی سنت کا دربار؟ اس عبادت گاہ پر دو اقلیتی برادریاں ہندو اور سکھ آپس میں الجھ پڑی تھیں۔
سندھی سکھ اپنی طبیعت میں برصغیر کے روایتی سکھوں سے بہت مختلف اور ٹھنڈے مزاج کے ہیں۔ روایتی سکھوں کی طرح وہ اپنے ساتھ کرپان نہیں رکھتے۔
پاکستان کی اقلیتوں کا آپس میں جھگڑنے کا یہ انوکھا واقعہ ہے جو کسی مذہبی مقام کے بارے میں ہو رہا ہے۔