Tuesday, 28 June, 2005, 01:40 GMT 06:40 PST
اسداللہ
کراچی
پاکستان بھر میں پیر کی شب سے انٹرنیٹ اور بین الاقوامی ٹیلی فون سروس بری طرح متاثر ہوئی ہے۔ پاکستان ٹیلی کمیونیکیشن کمپنی لمیٹڈ کے انجینئروں کے مطابق ملک کو زیرِ سمندر انٹرنیٹ کے فائبر لِنک میں فنی خرابی بڑے پیمانے پر تعطل کی وجہ ہے۔
پی ٹی سی ایل کے ترجمان کے مطابق خرابی کراچی میں ہاکس بے کے قریب واقع پاکستان انٹرنیٹ ایکسچینج سے لے کر ان دو گیٹ وے ایکسچینجز کے درمیان چوبیس کلو میٹر طویل فائبر لِنک میں کہیں نہیں ہے جو کہ زمینی راستہ کا محتاج ہے۔ بلکہ خرابی دوسری جانب زیرِ سمندر فائبر لِنک کی پاکستانی حدود میں کسی سرکٹ کی بجلی منقطع ہونے کی وجہ سے رونما ہوئی ہے جسے ساحل سے پچاس کلومیٹر کے علاقہ میں ڈھونڈنے کی کوشش کی جارہی ہے۔
دوسری جانب انٹرنیٹ سروس فراہم کرنے والی کمپنیوں کی تنظیم اسپاک کے سیکریٹری وی اے عابدی کے مطابق انٹرنیٹ سروس میں بڑا بریک ڈاؤن رات نو بجے پیش آیا جس کے بعد پورے ملک میں انٹرنیٹ بلیک آؤٹ ہو گیا۔ جبکہ پی ٹی سی ایل کے حکام کئی گھنٹے گزر جانے کے بعد بھی سسٹم میں فنی خرابی کے مقام کی نشاندہی نہیں کر سکے۔
![]() |
پاکستان میں اس وقت پچاس سے زائد انٹرنیٹ فراہم کرنے والی کمپنیاں کام کررہی ہیں جن کے تقریباً ایک کروڑ کے لگ بھگ صارفین ہیں۔ واضح رہے کہ ان کمپنیوں کا پی ٹی سی ایل سے دیرینہ مطالبہ رہا ہے کہ ملک میں فائبر لِنک کا مناسب متبادل انتظام رکھا جائے تاکہ کسی حادثہ کی صورت میں انٹرنیٹ ٹریفک میں کوئی تعطل نہ آئے۔
پی ٹی سی ایل کے ترجمان کے مطابق زیرِ سمندر فائبر لِنک میں بجلی کے تعطل کو دور کرنے کے انتظامات کیے جارہے ہیں جس میں کچھ وقت لگے گا۔ انہوں نے اس اطلاع کی تردید کی کہ خرابی دراصل کراچی میں مارسٹن روڈ پر واقع پی ٹی سی ایل کے گیٹ وے ایکسچینج تک آنے والےفائبر لِنک کے جنکشن میں بجلی نہ پہنچنے کے سبب ہوئی ہے۔
ترجمان کے مطابق خرابی زیرِ سمندر فائبر لِنک میں رونما ہوئی ہے جس کی تصدیق سنگاپور ٹیلی کام کمپنی نے بھی کی ہے جبکہ اسی کمپنی سے خرابی دور کرنے میں مزید مدد لی جا رہی ہے۔