http://bbc.com.im/urdu/

Tuesday, 28 June, 2005, 03:55 GMT 08:55 PST

مختار مائی توہین عدالت کی زد میں

پاکستان میں اجتماعی آبرو ریزی کا شکار ہونے والی مختار مائی کے معاملے میں ایک اور پیچ پڑا ہے اور آج لاہور ہائی کورٹ کا ملتان بینچ ان کے اور کچھ غیر سرکاری تنظیموں کے عہدے داروں کے خلاف توہین عدالت کی ایک درخواست کی سماعت شروع کر رہا ہے جو ایک مقامی وکیل نے دائر کی تھی۔

درخواست گزار نے موقف اختیار کیا ہے کہ میر والہ اجتماعی زیادتی کے کیس میں لاہور ہائی کورٹ کی طرف سے ملزامان کی بریت کے خلاف احتجاجی مظاہرے کر کے مختار مائی اور غیر سرکاری تنظیموں کے نمائندوں نے عدالت کی توہین کی ہے۔

توہینِ عدالت کے اس مقدمے کی سماعت جسٹس نذیر احمد صدیقی اور جسٹس محمد نواز بھٹی پر مشتمل ڈویژن بینچ کر رہا ہے۔

میر والہ میں سن دو ہزار دو میں اجتماعی زیادتی کا نشانہ بننے والی مختار مائی کے کیس میں انسداد دہشت گردی کی عدالت نے چھ ملزمان کو سزائے موت سنائی تھی۔ مگر لاہور ہائی کورٹ ملتان بنچ نے اس فیصلے پر نظر ثانی کرتے ہوئے اس سال تین مارچ کو چھ میں سے پانچ ملزمان کو بری کرنے کا حکم سنایا تھا۔

مختار مائی نے اس فیصلے پر گہرے دکھ کا اظہار کیا تھا اور سپریم کورٹ میں اپیل دائر کرنے کا اعلان کیا تھا۔

گیارہ مارچ کو ملک کی وفاقی شرعی عدالت نےاس معاملے کا از خود نوٹس لیتے ہوئے لاہور ہائی کورٹ کے فیصلے کو معطل کر دیا تھا اور ملزمان کی سزائیں بحال کرتے ہوئے ان سات ملزمان کو بھی طلب کر لیا تھا جن کو انسداد دہشت گردی کی عدالت نے بری کر دیا تھا۔

سپریم کورٹ نے وفاقی شرعی عدالت کے فیصلے کو بھی معطل کر دیا تھا اور اس معاملے کی خود سماعت کرنے کا فیصلہ کیا تھا۔