Sunday, 26 June, 2005, 00:59 GMT 05:59 PST
اسداللہ
کراچی
گورنر سندھ ڈاکٹر عشرت العباد خان کے برطانوی وکیل اسٹیفن ڈیسمنڈ ہوریگن نے برطانوی اخبار سنڈے ٹیلیگراف کی ان خبروں کو بے بنیاد قرار دیا ہے جن میں انکشاف کیا گیا تھا کہ ڈاکٹر عشرت نے گورنر بننے کے بعد برطانوی حکومت سے مبینہ طور پرغیر ضروری الاؤنسز وصول کیے ہیں۔
ہفتے کی شب گورنر ہاؤس میں ایک ہنگامی پریس کانفرنس میں بیرسٹر اسٹیفن نے کہا کہ ڈاکٹر عشرت نے سن 2002میں کراچی آ کر گورنر سندھ کا عہدہ سنبھالنے کے بعد اپنی ذاتی حیثیت میں کوئی الاؤنس وصول نہیں کیا البتہ برطانیہ میں قیام کے بعد انہیں اور ان کی فیملی کو جو الاؤنسز ملتے رہے ہیں وہ برطانوی قوانین کی رو سے اس کے حقدار تھے۔
بیرسٹر اسٹیفن کے مطابق خبروں میں لگائے الزامات کے برعکس لندن سے کراچی آنے کے بعد ڈاکٹر عشرت نے کچھ رقم برطانوی حکام کو واپس کی تھی جس کے قانون کی رو سے وہ حقدا ر تھے۔ ان کا کہنا تھا کہ برطانیہ میں دستاویزات کے مطالعہ سے پتہ چلتا ہے کہ اس سلسلے میں برطانوی حکام سے کچھ غلطی ہوئی ہے اور الٹا ڈاکٹر عشرت کی کچھ رقم برطانوی حکام کے ذمہ نکلتی ہے۔
مختلف سوالوں کا جواب دیتے ہوئے انہوں نے بتایا کہ گورنر سندھ کے پاس دونوں ممالک کے پاسپورٹ ہیں اور برطانوی حکام کی جانب سے ان کے خلاف کوئی تحقیقات نہیں ہورہی ہیں۔ جہاں تک ڈاکٹر عشرت کا تعلق ہے ان کے لیے یہ کیس اب مکمل طور پر بند ہوچکا ہے۔
گورنر سندھ کے وکیل نے مزید بتایا کہ ڈاکٹر عشرت سمجھتے ہیں کہ ان پر لگائے گئے الزامات ان کو بدنام کرنے کی مذموم کوشش تھی۔ سنڈے ٹیلیگراف کے خلاف قانونی چارہ جوئی کے سوال پر انہوں نے کوئی حتمی جواب دینے کے بجائے کہا کہ وہ مشاورت سے تمام امکانات کا جائزہ لے رہے ہیں۔