Friday, 17 June, 2005, 05:05 GMT 10:05 PST
ریاض سہیل
بی بی سی اردو ڈاٹ کام کراچی
انسانی حقوق کی کمیشن نے سندھ میں امن امان کی صورتحال پر تشویش کا اظہار کیا ہے اور الزام عائد کیا ہے کہ صوبائی حکومت نے سیاسی مخالفین کو ہراساں کرنے کو اولین ترجیح بنایا ہوا ہے۔
ایچ آر سی پی نےسنی تحریک کے کارکنوں پر وحشیانہ تشدد اور ان کے قتل اور امام بارگاہوں میں بم دہماکوں کی شدید مذمت کی۔
اقبال حیدر نے کہا کہ ہم اسلم مجاہد کے قتل کو بھی انسانیت سوز وحشیانہ کارروائی قرار دیتے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ جس طرح قتل وغارت ہو رہی ہے اور ریاست خاموشی سے دیکھ رہی ہے۔ ایسا محسوس ہوتا ہے کہ حکومت سندھ نے اپنے سیاسی مخالفیں کو ہراساں کرنے کو اپنی اولیں ترجیح بنایا ہوا ہے۔
![]() رکن اسمبلی فرحین مغل |
ان کا کہنا تھا کہ جب اسمبلی کا اجلاس جاری ہو تو ہر رکن اسمبلی کا یہ حق بنتا ہے کہ اس کی گرفتاری کے لیے اسپیکر سے اجازت لی جائے۔ اس طرح زاہد بھرگڑی کی گرفتاری کا سپیکر نے کوئی نوٹس نہیں لیا۔
انہوں نے الزام عائد کیا کہ سندھ حکومت اتنی کمزرہ ہے کہ سندھ کی خواتین ارکان اسمبلی حمیرا علوانی، فرحیں مغل اورشمیم آرا پنہور کے مسلسل ہراساں کیے جانے کو بھی نہیں روک سکتی۔ حکومت سندھ نے ظلم اور ناانصافیوں کا ریکارڈ قائم کر رہی ہے۔
دوسری جانب ایچ آر سی پی کی جاری کردہ رپورٹ کے مطابق سندھ میں مئی دو ہزار چار سے لیکر دوہزار پانچ تک دوسو انچاس عورتوں سمیت ساڑھے چار سو افراد کو کارو کاری میں قتل کیا گیا۔
![]() شمیم آرا پنہور |
ایچ آر سی پی کی رپورٹ کے مطابق مئی دوہزار چار سے لیکر دو ہزار پابچ تک آٹھ سو پچانوے افراد قتل اور تین سو سے زائد اغواء ہوئے۔