http://bbc.com.im/urdu/

Wednesday, 15 June, 2005, 02:10 GMT 07:10 PST

علی سلمان
بی بی سی اردو ڈاٹ کام لاہور

پاکستان: بھٹہ مزدور بازیاب

لاہور ہائی کورٹ کے حکم پر پولیس اور عدالتی بیلف نے شیخوپورہ میں چھاپہ مار کے تین سو سولہ بھٹہ مزدوروں کو بازیاب کرلیا ہے جن سے مبینہ طور پر جبری مشقت لی جارہی تھی۔بازیاب ہونے والے بھٹہ مزدوروں میں عورتیں اور بچے بھی شامل ہیں اور تمام کے تمام عیسائی ہیں۔

ہائی کورٹ نے یہ کارروائی مختلف چودہ آئینی درخواستوں کی سماعت کے بعد کی۔
ان درخواستوں میں یہ موقف اختیار کیا گیا تھا کہ بیگار یا جبری مشقت آئین میں درج بنیادی حقوق کی کھلی خلاف ورزی ہے۔

عدالت نے نو مختلف بیلف تشکیل دیے جنہوں نے شیخوپورہ پولیس کی مختلف ٹیموں کو ساتھ لیکر عیسی نگری بھدرو، چنگڑ محلہ اور دوسرے علاقوں میں ساری رات چھاپے مارےاور ان افراد کو رہا کرالیا۔

آج صبح انہیں لاہور ہائی کورٹ کے الگ الگ ججوں، جسٹس عظمت سعید،جٹس شبر رضا،جسٹس ایم بلاول خان اور جسٹس ایم اے شاہد صدیقی کے روبرو پیش کیا گیا۔

جہاں بھٹہ مزدوروں نے بتایا کہ ان سے انسانیت سوز سلوک روا رکھا جاتا ہے۔
ایک مزدور نے عدالت کو بتایا کہ انہیں روزانہ ڈیڑھ سو روپے فی کس اجرت دی جاتی ہے اور اس کے عوض ہر مزدور کو دو ہزار اینٹیں بنانا ہوتی ہیں۔
انہوں نے بتایا کہ اس دوران انہیں تشدد کا نشانہ بھی بنایا جاتا ہے اور وہ اپنی مرضی سے یہ کام چھوڑ بھی نہیں سکتے۔

ہائی کورٹ نے تمام بھٹہ مزدوروں کو کہا کہ وہ آزاد شہری ہیں اور اپنی مرضی سے جہاں چاہیں جا سکتے ہیں اور جو چاہے کام کر سکتے ہیں کسی کو یہ اختیار نہیں ہے کہ ان سے جبری مشقت لے۔

مفت قانونی مدد دینے والے ایک غیر سرکاری مرکز، لیگل ایڈ سینٹر کے ڈائریکٹر جوزف فرانسس نے کہا کہ پاکستان کے دیہی اور پسماندہ علاقوں میں جبری مشقت لی جاتی ہے اور پنجاب میں جبری مشقت کے نشانہ بننے والوں کی بڑی تعداد عیسائی ہے۔