صدر جنرل پرویز مشرف نے کہا ہے کہ ان کو یقین ہے کہ اسامہ بن لادن زندہ ہیں اور امکان ہے کہ ان کو پاکستان میں ہی ان کے حامیوں نے پناہ دی ہوئی ہو۔
یہ بات انہوں نے آسٹریلیا کے دار الحکومت کینبرا میں پریس کلب میں بات کرتے ہوئے کہی۔
انہوں نے کہا کہ گرفتار القاعدہ کارکنوں سے حاصل کردہ معلومات سے پتہ چلتا ہے کہ اسامہ زندہ ہیں۔ جنرل مشرف نے کہا کہ شائد اسامہ پاکستان اور افغانستان کے سرحدی علاقے میں چھپے ہوئے ہوں۔
امداد
انہوں نے یہ بھی کہا کہ پاکستان میں غیر ملکی سرمایہ کاری میں اضافے سے دہشت گردی کو ختم کرنے کی کوششوں کو مدد ملے گی۔ انہوں نے کہا ’جب آپ ہماری صنعت کی مدد کرتے ہیں تو آپ بلا واسطہ طور پر ہماری دہشت گردی کے خلاف مہم کی مدد کر رہے ہیں‘۔
اس کے علاوہ جنرل مشرف نے خلیج گوانتانامو کے حراستی مرکز میں قرآن کی مبینہ بے حرمتی کے بارے میں بات کرتے ہوئے کہا کہ ’اس کے بہت منفی اثرات ہوئے ہیں اور ایسا کرنے والوں کو سزا ہونی چاہیے۔ لوگ کہتے ہیں کہ مسلمانوں میں مذھبی روادری نہیں ہے لیکن یہ تو انتہائی عدم رواداری کی مثال ہے۔ اس کے بر عکس کوئی مسلمان کبھی انجیل کی بے حرمتی نہ کرتا۔‘
خفیہ معلومات کا تبادلہ
جنرل مشرف آسٹریلیا کا دورہ کرنے والے پہلے پاکستانی صدر ہیں۔ کینبرا آمد پر انہیں اکیس توپوں کی سلامی دی گئی۔
اطلاعات کے مطابق دونوں ممالک ایک دوسرے کو تمام ایسی معلومات سے آگاہ کریں گے جس کا تعلق ان آسٹریلوی شہریوں سے ہو جن پر الزام ہے کہ ان کا پاکستان میں قائم دہشت گردی کے لیے تربیتی کیمپوں سے رابطہ تھا۔
ایک پاکستانی نژاد آسٹریلوی شہری فہیم خالد لودھی کے خلاف اس وقت ایسا ایک مقدمہ آسٹریلیا میں چل رہا ہے۔ فہیم خالد لودھی پیشے سے آرکیٹیکٹ ہیں اور ان پر الزام ہے کہ وہ سِڈنی میں دہشت گرد حملوں کے لیے منصوبے بنانے میں ملوث تھے۔
جنرل مشرف آسٹریلیا کے وزیر اعظم جان ہاؤرڈ سے مذاکرات کے بعد نیو زی لینڈ کا دورہ کریں گے۔