Tuesday, 14 June, 2005, 04:27 GMT 09:27 PST
ذوالفقار علی
بی بی سی اردو ڈاٹ کام، مظفرآباد
پاکستان اور اس کے زیر انتظام کشمیر کے دورے پر آئے کشمیری علحیٰدگی پسند اتحاد کل جماعتی حریت کانفرنس کے رہنماؤں نے پیر کو پاکستان کے زیر انتظام کشمیر میں تین مقامات پر ہزاروں لوگوں کے اجتماعات سے خطاب کیا۔
حریت کانفرنس کے رہنما جب اسلام آباد سے ہیلی کاپڑ کے ذریعے ان مقامات پر پہنچے توہزاروں لوگوں نے ان کا والہانہ استقبال کیا اور ان پر پھولوں کی پتیاں نچھاور کی گئیں اور ہار پہنائے گئے۔
اس موقع میں ان رہنماؤں کو سننے اور استقبال کرنے کے لئے آئے ہوئے لوگوں نے کشمیر کی آزادی کے حق میں نعرے بلند کئے۔ کچھ لوگ وہاں پر خودمختار کشمیر کے حق میں نعرے لگا رہے تھے اور بعض پاکستان کے ساتھ الحاق کے حق میں نعرے بازی کررہے تھے۔
پولیس کے مطابق سب سے بڑا اجمتاع رالاکوٹ میں ہوا جس میں انکے کہ مطابق لگ بھگ چودہ ہزار لوگوں نے شرکت کی اور اسی طرح کوٹلی میں تقرینباً نو ہزار لوگوں کا اجمتاع تھا اور میرپور میں بھی ہزاروں لوگوں نے شرکت کی۔ اب تک ان علاقوں کے لوگوں نے ان رہنماوں کو ٹیلی ویژن اور ریڈیوں پر دیکھتے یا سنتے آئے تھے یا ان کے بیانات اخبارات میں پڑھتے آرہے تھے لیکن یہ پہلا موقعہ تھا کہ یہ لوگ ان رہنماوں کو پنے سامنے دیکھ اور سن رہے تھے۔
ان کی تقاریر کے دوران لوگ بار بار تالیاں بجاتے اور نعرہ بازی کرتے رہے۔گرچہ ان اجتماعات میں حریت کانفرنس کے رہنماؤں نے کوئی نئی بات نہیں کی لیکن یہ بات اپنی جگہ اہم ہے کہ ان کو پہلی مرتبہ کشمیر کے اس علاقے کے عوام سے براہ راست خطاب کرنے کا موقع ملا۔
کل جماعتی حریت کانفونس کے سربراہ مولوی عمر فاروق نے اپنے خطاب میں یہ کہا کہ کہ یہ کشمیروں کی قربانیوں کا نتیجہ ہے کہ وہ آج ان سے مخاطب ہیں۔انھوں نے کہا کہ وہ اس وقت تک جد جہد جاری رکھیں گے جب تک کشمیریوں کے درمیان حائل لیکر ختم نہیں ہوتی ہے۔
انھوں نے کہا کے پاکستان کے زیر انتظام کشمیر کے اس علاقے کے لوگ نہ صرف ہماری جدوجہد کا حصہ ہیں بلکہ وہ ہمارے مستقبل کا بھی حصہ ہیں اور یہ کہ ہمارا مستقبل ایک ہے۔
حریت کانفرنس کے اعتدال پسند دھڑے کے سربراہ مولوی عمر فاروق نے تالیوں کے بیچ میں تقریر کرتے ہوئے پاکستان کے صدر پرویز مشرف سے اپنی ملاقات کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ مشرف نے ان کو یہ یعقین دہانی کرائی کہ حکومت پاکستان تنازعہ کشمیر کے حوالے سے کوئی بھی ایسا قدم نہیں اٹھائی گی جو کشمیریوں کے جذبات اور احساسات کے خلاف ہو۔
عمر فاروق نے یہ بھی کہا کہ جنرل پرویز مشرف نے کہا کہ حریت کانفرنس اور دیگر کشمیری رہنما پاکستان آئیں اور پاکستان اور اسکے زیر انتظام کشمیر کی قیادت سے مسائل کے حل کے لیے بات کریں اور ہندوستان سے بھی بات کریں ۔عمر فاروق نے کہا کہ یہ ان کا پہلا اور آخری دورہ نہیں ہے بلکہ وہ آئندہ بھی آتے رہیں گے کیونکہ انکے کہنے کے مطابق ایک عمل شروع ہوچکا ہے کشمیری اس کا حصہ ہیں
ان اجماتات میں حریت کانفرنس کی سربراہ عمر فاروق کے علاوہ عبدالغنی بٹ ، مولانا عباس انصاری ، بلال غنی لون ، فضل الحق قریشی اور ڈیمو کریٹک فریڈم پارٹی کے سیکریڑی جنرل عبداللہ طاری نے شرکت کی اور ان میں بعض نے ان اجتماعات سے خطاب بھی کیا۔
البتہ جموں کشمیر کبریشن فرنٹ کے سربراہ محمد یاسین ملک ان اجتماعات میں شرکت نہ کرسکے کیونکہ عین اسی موقع پر وہ اسلام آباد میں کسی اور تقریب میں مصروف تھے۔ اجتماعات سے خطاب کے حریت کانفرنس کے رہنما واپس اسلام آباد روانے ہوگئے ہیں ۔