http://bbc.com.im/urdu/

Friday, 10 June, 2005, 14:18 GMT 19:18 PST

عبدالرشید شکور
بی بی سی اردو ڈاٹ کام کراچی

پاک بھارت فٹبال سیریز

پاکستان اور بھارت کسی بھی کھیل میں مدمقابل ہوں روایتی جوش وخروش سے اس کی اہمیت میں غیرمعمولی اضافہ ہوجاتا ہے لیکن یہ بات بڑی عجیب معلوم ہوتی ہے کہ کرکٹ اور ہاکی میں ان ملکوں نے ایک دوسرے کے سامنے آنے میں ذرا بھی دیر نہیں کی لیکن برصغیر میں بے پناہ مقبولیت کے حامل کھیل فٹبال میں پاک بھارت سیریز کے انعقاد میں 57 سال بیت گئے۔

اس طویل عرصے میں اگرچہ دونوں ٹیمیں مختلف ٹورنامنٹس میں مدمقابل ہوچکی ہیں لیکن ون ٹو ون میچوں کا موقع اب آیا ہے۔ پہلی پاک بھارت فٹبال سیریز کا پہلا میچ اتوار کو کوئٹہ میں کھیلا جارہا ہے دوسرا انٹرنیشنل 16 جون کو پشاور اور تیسرا انٹرنیشنل 18 جون کو لاہور میں کھیلا جائے گا۔

ان تین میچوں کی سیریزمیں پاکستانی ٹیم کی قیادت گول کیپر جعفر خان کررہے ہیں جبکہ بھارتی ٹیم کے کپتان شنموگم وینکٹاش ہیں جو گزشتہ سال بھارتی فٹبال فیڈریشن کی طرف سے بہترین فٹبالر قرار پاچکے ہیں۔

فٹبال کی عالمی رینکنگ میں اسوقت بھارت 135 ویں نمبر پر ہے جبکہ پاکستان کا نمبر177 واں ہے۔ بھارت خصوصاً بنگال میں فٹبال سے لوگوں کی دلچسپی جنون کی حد تک ہے۔

سشمیتا نے بتایا کہ یہ بات مشہور ہے کہ وہ فٹبالر ہی نہیں ہے جس نے کولکتہ میں فٹبال نہیں کھیلی۔ ہندوستانی فٹبال کا مطلب کولکتہ کی فٹبال ہے اس کی وجہ وہاں منظم انداز میں ہونے والی لیگ ہے جس میں غیرملکی کھلاڑی بھی اپنی صلاحیتوں کے جوہر دکھاتے رہے ہیں۔

کولکتہ کا سالٹ لیک اسٹیڈیم میں فٹبال کے شائقین کا جوش وخروش کسی طور بھی ایڈن گارڈنز میں کرکٹ کے طوفان سے کم نہیں۔ اس کے علاوہ محمڈن اسپورٹنگ کلب موہن بگان اور دوسرے کلبوں کے اسٹیڈیمز بھی بہترین حالت میں ہیں۔

بھارت کے برعکس پاکستان میں فٹبال ابتری کا شکار ہے اس کی وجہ یہ ہے کہ یہاں فٹبال کم کھیلی گئی ہے فٹبال کے ساتھ کھیلا زیادہ گیا ہے۔

یہ صورتحال اس لئے بھی تکلیف دہ معلوم ہوتی ہے کہ پاکستانی فٹبال کا ماضی انتہائی شاندار رہا ہے پچاس کے عشرے میں پاکستانی ٹیم نے ایران، ترکی سعودی عرب اور کئی دوسری بڑی ٹیموں کو شکست دی تھی۔ یہ وہ دور تھا جب پاکستانی فٹبالرز بھارت جاکر پروفیشنل کی حیثیت سے لیگ میچوں میں حصہ لیا کرتے تھے۔ بھارتی میدان آج بھی استاد رمضان، استاد داد، محمد حسن بچایو، صدیق شیدو، محمد عمر حسین کلر، غفور اور موسی غازی کے خوبصورت کھیل اور صلاحیتوں کی گواہی دیتے ہیں۔

آج عالم یہ ہے کہ مختلف ادارے فٹبال ٹیمیں ختم کرچکے ہیں جس کے نتیجے میں باصلاحیت کھلاڑی معاشی فکر میں تاریکیوں میں گم ہوچکے ہیں۔ کراچی جو فٹبال کا سب سے بڑا مرکز ہے ایک ایسے اسٹیڈیم سے محروم ہے جہاں بین الاقوامی میچ کھیلا جاسکے۔ پیپلز اسٹیڈیم طویل عرصے سے قانون نافذ کرنے والے اداروں کے اہلکاروں کا مسکن بنا رہا ہے۔ دوسرے میدانوں ککری گراؤنڈ اور کے ایم سی اسٹیڈیم بھی بری حالت میں ہیں۔

سینئر صحافی نادر شاہ عادل کا کہنا ہے کہ پاکستان میں فٹبال کو مفادات کی جنگ نے تباہ کیا ہے۔ نوکر شاہی نے جب بھی ایثار پسند اور اس کھیل کی سمجھ بوجھ رکھنے والوں کوہٹاکر خود اس کھیل کی باگ ڈور سنبھالی اس کھیل کو نقصان پہنچا۔ کراچی خصوصاً لیاری کو جان بوجھ کر نظرانداز کیا گیا جہاں کے لوگوں کے لئے فٹبال محض تفریح ہی نہیں بلکہ ذریعہ معاش بھی رہا ہے۔

عام تاثر یہ ہے کہ پاک بھارت فٹبال سیریز سے اس خطے میں فٹبال کو فروغ ملے گا اور ان مقابلوں کو باقاعدہ شکل دینے کی ضرورت ہے۔