Tuesday, 07 June, 2005, 02:30 GMT 07:30 PST
سرکاری ملازمین کی چند تنظیموں نے قومی بجٹ پر مایوسی کا اظہار کیا ہے اور کہا ہے کہ حکومت نے مرے ہوؤں کو مزید مار دیاہے۔
پاکستان سول سیکرٹریٹ کوآرڈی نیشن کونسل کے جنرل سیکرٹری اور کلرکس ایسوسی ایشن پنجاب سول سیکرٹریٹ کے صدر اور آل عظیم احمد باری نے کہا ہے کہ حکومت نےسرکاری ملازمین کی تنخواہوں میں جو پندرہ فی صد اضافہ کیا ہے اس میں عبوری امداد کی رقم منہا ہوجانے کے بعد یہ اضافہ پانچ فی صد سے بھی کم رہ جائے گا جو مہنگائی کے بوجھ تلے دبے ملازمین کے ساتھ ایک سنگین مذاق کے سوا کچھ نہیں ہے۔
انہوں نے کہا کہ ہوشربا مہنگائی نے جینا حرام کر رکھا تھا اور دو سال سے پے اینڈ پنشن کمیٹی کا اجلاس جاری تھا لیکن تمام امیدوں پر پانی پھر گیا ہے اور حکومت نے کمیٹی کی سفارشات کا پانچ فی صد بھی نہیں منظورکیا۔
انہوں نے کہا کہ ملازمین کو قبر میں دھکا دیدیا گیا ہے لیکن وہ جلد اپنا ردعمل ظاہر کریں گے۔
گریڈ گیارہ سے لیکر سولہ تک کے سرکاری ملازمین کی ایک تنظیم اسسٹنٹس ایسوسی ایشن پنجاب سول سیکرٹریٹ کے جنرل سیکرٹری محمد سلیم خان نے کہا ہے کہ سرکاری ملازمین کی مالی حالت پتلی ہے ۔
انہوں نے کہا کہ انیس سو اکیانوے سے ہاؤس رینٹ میں کوئی اضافہ نہیں ہوا جو اب بھی ایک کلرک کے لیے صرف چار سے پانچ سو روپے ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ بجٹ میں کم از کم اضافہ پچاس فی صد ہونا چاہیے تھا۔
انہوں نے کہا کہ ایک کلرک کی تنخواہ ساڑھے تین سے چار ہزار روپے ہے اور اگر اس کے پاس مکان نہیں ہے کہ تو پھر نجانے وہ زندہ کسیے رہتا ہے؟ ان کا کہنا تھا کہ لاہور جیسے شہر میں ایک کمرے کے مکان کا کم از کم کرایہ ڈھائی ہزار روپے ہے جبکہ حکومت ہاؤس رینٹ کا الاؤنس صرف چار پانچ سو روپے ہے۔
انہوں نے کہاکہ آٹا سولہ روپے کلو ہے اور دودھ چوبیس روپے کلو ہے۔جس گھر میں دو بچے بھی شیر خوار ہیں تو دو کلو روزانہ دودھ آتا ہے ا ور بل ڈیڑھ ہزار روپے بن جاتا ہے ۔محمد سلیم کا کہنا تھا کہ پورے خاندان کے لیے میڈیکل الاؤنس صرف دو سو دس روپےماہانہ ہے اور اگر کوئی سیریس مرض میں مبتلا ہوجائے تو اس کے لیے علاج کرانے سے مرجانا آسان لگتاہے۔ انہوں نے کہا کہ گزشتہ سال ایک سرکاری ملازم نے مالی تنگی سے پریشان ہوکر خودکشی کرلی تھی
انہوں نے کہا کہ اس کی مالی تنگی کے برے نتائج برآمد ہوتے ہیں جن میں گھر میں لڑائی سے لیکر ڈپریشن تک شامل ہیں۔
انہوں نے کہا کہ سرکاری ملازم اضافی طور پر جز وقتی کام پر مجبور ہوتے ہیں سرکاری دفتر میں حاضری کم ہوتی ہے یا پھر کرپشن پر مجبور ہوتے ہیں۔
انہوں نے سرکاری ملازمین کے معاوضے کو غیر انسانی قرار دیا ہے۔