Tuesday, 07 June, 2005, 12:05 GMT 17:05 PST
ڈاکٹر اکبر زیدی
بجٹ 06--2005 کے کچھ نفسیاتی پہلو ہیں جو عام طور پر دیکھنے میں نہیں آتے مگر یہ ظاہر کرتے ہیں کہ پاکستان کی مشرف-عزیز حکومت کتنی خوداعتمادی کے ساتھ حکومت کر رہی ہے۔
سب سے پہلے تو یہ بات قابل غور ہے کہ پاکستان کے وزیرمالیات، جو پچھلے چار سال سے وزیر مالیات ہیں، نے پچھلے پانچ سال سے بجٹ پیش کیا تھا، اس سال نہیں کیا کیونکہ وہ وزیراعظم کے عہدے پر فائز ہیں۔ان کی جگہ ایک نوجوان وزیر نے یہ بجٹ پیش کیا ہے۔
دوسری بات جو حکومت کی خود اعتمادی کی نشاندہی کرتی ہے یہ ہے کہ عام طور پر بجٹ ہفتے کے دن پیش ہوتا ہے کیونکہ اگلے دن بازار اور منڈیاں بند ہوتی ہیں اس لیےاگر حکومت کوئی بڑا قدم اٹھائے تومعیشت پرفوری طور پر کوئی برے اثرات نہ پڑیں۔ لیکن اس دفعہ بجٹ پیر کے دن پیش ہوا کیونکہ حکومت کو کسی بات کا کوئی خاص خطرہ نہیں تھا۔
لیکن شائد اس خود اعتمادی کی سب سے بڑی وجہ مالی سال
05-2004 (جو ابھی ختم نہیں ہوا) کی کامیابی ہے۔ اس سال قومی پیداوار میں تقریباً 8 اعشاریہ 4 فیصد اضافہ ہوا ہے جو کئی سالوں کے بعد ہوا ہے۔
پچھلے بیس سال میں بھی معیشت کے بڑھنے کی رفتار اتنی زیادہ نہیں ہوئی جتنی اس سال ہوئی ہے۔ اس کے علاوہ پچھلے دو سالوں میں معیشت کے بڑھنے کی رفتار خاصی اچھی رہی ہے، کم از کم اعداد وشمار کے حوالے سے۔ اسی وجہ سے پاکستان کی حکومت خود اعتمادی کے ساتھ آرام سے بیٹھی ہے۔
غربت کی لکیر |
اس بجٹ میں یہ اظہار تو کیا گیا ہے کہ ملک کی معیشت بہت اچھی ہے اور تیزی سے ترقی کر رہی ہے، یہ بھی کہا گیا ہے کہ ایشیا میں اس کی رفتار دوسرے نمبر پر ہے۔ اس بات کا بھی حوالہ دیا گیا کہ پاکستان کا درمیانہ طبقہ اب کافی ترقی کر رہا ہے جس کا ثبوت یہ دیا گیا ہے کہ ائیر کنڈیشنرز اور موبائل فون کے استعمال میں بے پناہ اضافہ ہوا ہے۔
اگر عام آدمی کے حوالے سے دیکھا جائے تو اس بجٹ میں حکومت نے کچھ اقدامات اٹھائے ہیں جو قابل ذکر ہیں۔ ایک تو یہ کہ حکومت نے کم سے کم اجرت 2500 روپے سے بڑھا کر 3000 روپے کر دی ہے۔ اسی طرح کم سے کم پینشن کی حد بھی بڑھا دی گئی ہے۔ دوسری طرف حکومت نے سرکاری ملازمین کی تنخواہوں میں بھی خاصہ اضافہ کیا ہے۔ لیکن ان سب کوششوں کے اثرات غریب عوام تک نہیں پہنچیں گے کیونکہ وہ لوگ جو حقیقتاً غریب ہیں اس دائرے میں نہیں آتے۔
جب سے مشرف حکومت آئی ہے، ہم دیکھ رہے ہیں کہ دفائی اخراجات ترقیاتی اخراجات سے زیادہ رہے ہیں۔ لیکن اس سال کے بجٹ میں کم از کم ترقیاتی اخراجات دفاعی اخراجات سے زیادہ ہیں۔
لیکن اس کے ساتھ ساتھ یہ بات بتانا بھی ضروری ہے کہ اکثر ہوتا یہ ہے کہ سال کے آخر میں، جب مالی سال ختم ہوجاتا ہے، ترقیاتی اخراجات میں کمی کر دی جاتی ہے۔
اور ایک پہلوجو توجہ طلب ہے وہ یہ ہے کہ اب تک این ایف سی پر کوئی فیصلہ نہیں ہوا اور اس سلسلے میں پرانا طریقہ کار ہی استعمال کیا گیا ہے۔ اس کی وجہ سے بلوچستان اور صوبہ سرحد کوگیس اور بجلی سے جو رائیلٹی ملنی چاہیے وہ این ایف سی پر کسی حتمی فیصلہ سے پہلے نہیں ملے گی۔
تفریق زر |
بہرحال اس بجٹ کو ’غریب آدمی‘ کا بجٹ کہیں سے نہیں کیا جا سکتا کیونکہ عام آدمی کےمسائل ان اقدامات سے حل نہیں ہوں گے۔
اگرچہ اقتصادی صورت حال بہتر ہو رہی ہے لیکن اس کے ساتھ ساتھ امیر اور غریب کے درمیان فرق میں بھی اضافہ ہو رہا ہے۔ غُربت کم نہیں ہوئی اور نہ افراط زر میں کمی کے کوئی آثار نظر آ رہے ہیں۔ تاہم اس بجٹ کو ’کاروبار کے لیے بہتر‘ بجٹ ضرور کہا جاسکتا ہے کیونکہ اس سے مراعت یافتہ طبقے کی صورتحال مزید بہتر ہوگی۔