http://bbc.com.im/urdu/

Monday, 06 June, 2005, 14:59 GMT 19:59 PST

اعجاز مہر
بی بی سی اردو ڈاٹ کام، اسلام آْباد

پاکستان1098 ارب 50کروڑ کا بجٹ

پاکستان حکومت نے یکم جولائی سے شروع ہونے والے نئے مالی سال کے لیے تقریبا گیارہ کھرب روپوں کا بجٹ قومی اسمبلی میں پیش کردیا ہے۔

وزیر مملکت برائے خزانہ عمر ایوب خان یہ بجٹ پیش کیا اور بتایا کہ مالی سال برائے سن دو ہزار پانچ اور چھ کے لیے بجٹ کا کل حجم دس کھرب اٹھانوے ارب پچاس کروڑ بیس لاکھ روپے ہوگا۔


جو کہ ان کے مطابق رواں ماہ کے اختتام پر مکمل ہونے والے ماللی سال کے بجٹ کے تخمینہ سےاکیس اعشاریہ سات فیصد زیادہ ہے۔
بجٹ: خاص خاص باتیں
٭ کل اخراجات: 1098 ارب 50 کروڑ روپے
٭ خالص وصولیوں: 643 ارب 8 کروڑ روپے
٭ دفاعی اخراجات: 223 ارب 50 کروڑ روپے

بجٹ سیشن شروع ہوا تو حزب اختلاف کے اتحاد ’اےآڑ ڈی‘ کے اراکین نے احتجاج کرتے ہوئے واک آؤٹ کیا اور بعد میں متحدہ مجلس عمل کے اراکین بھی باہر چلے گئے۔ لیکن بعد میں ایوان میں واپس آگئے۔

نئے مالی سال میں کل اخراجات کا تخمینہ دس کھرب اٹھانوے ارب پچاس کروڑ بیس لاکھ روپے لگایا گیا ہے۔ جس میں ترقیاتی اخراجات دو کھرب بہتر ارب روپوں کے ہوں گے۔ وزیر کے مطابق نئے سال میں تین سو تریپن ترقیاتی منصوبے مکمل ہوں گے۔

جاری اخراجات میں رواں سال کی نسبت پانچ اعشاریہ تین فیصد جبکہ ترقیاتی اخراجات میں پینتیس فیصد کا اضافہ کیا گیا ہے۔

حکومت نے نئے مالی سال میں کل خالص وصولیوں کا تخمینہ چھ کھرب ترتالیس ارب آٹھ کروڑ دس لاکھ روپے لگایا ہے جو رواں مالی سال کی خالص وصولیوں کے تخمینے سے پندرہ اعشاریہ چار فیصد زیادہ ہے۔

باقی اخراجات بینک سے قرضے حاصل کرکے اور حکومتی اداروں کو نجی شعبے کے حوالے کرنے سے ہونے والی آمدن سے پورا کیا جائے گا۔ نئے سال میں مالی خسارے کا تخمینہ تین اعشاریہ آٹھ فیصد لگایا گیا ہے جو رواں سال ہونے والے خسارے کی حد سے بھی زیادہ ہے۔
اپوزیشن کا واک آؤٹ اور واپسی
 حزب اختلاف کے اتحاد ’اےآڑ ڈی‘ کے اراکین نے احتجاج کرتے ہوئے واک آؤٹ کیا اور بعد میں متحدہ مجلس عمل کے اراکین بھی باہر چلے گئے۔ لیکن بعد میں ایوان میں واپس آگئے
 

حکومت نے دفاعی اخراجات کا تخمینہ دو کھرب تئیس ارب پچاس کروڑ دس لاکھ روپے بتایا ہے۔ جبکہ عمومی عوامی خدمت کے پانچ کھرب تین ارب گیارہ کروڑ چالیس لاکھ روپے مختص کیے گئے ہیں۔

وفاقی حکومت کو ہونے والی وصولیوں میں صوبوں کا حصہ رواں مالی سال کی نسبت انیس فیصد زیادہ ہوگا۔
واضح رہے کہ ماضی میں حکومت کے بجٹ تخمینے سے صوبوں کو ملنے والی رقم کم ہی ہوتی ہے۔

وزیر نے اپنی تقریر میں کہا کہ غربت کے خاتمے کے لیے زیدہ رقم مختص کی ہے۔ ان کے مطابق صحت کے لیے اڑسٹھ اعشاریہ چھ فیصد، تعلیم اور پیشہ ورانہ تربیت کے لیے انچاس اعشاری پانچ فیصد، انفرمیشن ٹیکنالوجی کے لیے پینتیس اعشاریہ آٹھ فیصد زیادہ رقم مخصوص کی گئی ہے۔

وزیر کے مطابق نئے بجٹ میں قانون و انصاف کے شعبے میں اڑتیس اعشاریہ سات ارب روپے خرچ کرنے کی تجویز کی گئی ہے۔