http://bbc.com.im/urdu/

Wednesday, 25 May, 2005, 02:44 GMT 07:44 PST

علی سلمان
بی بی سی اردوڈاٹ کام لاہور

رنگیلا منوں مٹی تلے جا سوئے

پاکستانیوں کو لاکھوں مسکراہٹیں دینے والا مشہورمزاحیہ اداکاررنگیلا اپنےعزیزاوقارب اور پرستاروں کورلاتا ہوا منوں مٹی تلے جا سویا۔

ان کا جنازہ منگل کو لاہورمیں ان کے گھر سے اٹھا یا گیا توجنازے میں شریک ہر شخص کی آنکھ پر نم تھی۔ جناح گراؤنڈمیں ان کی نماز جنازہ پڑھائی گئی جس کے بعد انہیں جوہر ٹاؤن کے ہی قبرستان میں سپر دخاک کر دیا گیا۔

سرحد کے علاقے پارا چنار میں پیدا ہونے والے سیعد خان عرف رنگیلا کے گھر تعزیت کرنے والوں کا تانتا بندھا ہوا ہے۔ جن میں فلمی ادارکار ہدایت کار موسیقار،سٹیج ٹی وی کے فنکار، فلمساز سمیت مختلف شعبہ ہائے زندگی سے تعلق رکھنے والے افراد شامل ہیں۔

ان کی موت پر کئی لوگ زار وقطار روتے دکھائی دیئے۔ ان کی رسم قل بدھ کو ادا کی جارہی ہے۔

چار سال تک مسلسل نگار ایوارڈ حاصل کرنے والے اس کامیڈین کی خوبی یہ تھی کہ فلم بینوں کو محض ان کی شکل دیکھ کر ہی ہنسی آجاتی تھی اور وہ بولنے سے زیادہ ایکشن کو کامیڈی کے ذریعے لوگوں کو ہنسنے پر مجبور کر دیتے تھے۔
وہ کئی ماہ سے بیمار تھے۔ان کے گردے خراب ہوچکے تھے۔ دل بڑھ گیا تھا اور دس سال سے وہ جگر کے عارضے میں مبتلا تھے۔ اس کے علاوہ انہیں دمہ کی شکایت بھی تھی۔

وہ لاہور کے کئی ہسپتالوں میں زیرعلاج رہے ان کے پرستاروں میں شامل پنجاب کے موجودہ وزیر اعلیٰ چودھری پرویز الہی ان کی عیادت کرنے کے لیے شیخ زاید ہسپتال گئے تھے تو ان کے ایک دوسرے پرستار سابق وزیراعظم میاں نوازشریف کے کہنے پر ان کا شریف میڈیکل سٹی میں علاج ہوتا رہا۔

مختلف فلمی شخصیات نے ان کی وفات پر گہرے رنج و غم اظہار کیا ہے۔ اداکار سہیل احمد کا کہنا ہےکہ چارلی چپلن کے بعد وہ دنیا کے سب سے بڑے ایسے کامیڈین تھے جو محض چہرے کے نقوش بگاڑ کر لوگوں کو ہنسنے پر مجبور کر دیتے تھے۔

عمر شریف ان کی بیماری کے دوران بھی عیادت کرنے جاتے رہے وہ مخلتف پروگراموں میں ان کی نقل اتار کر لوگوں کو ہنساتے رہے لیکن ان کی وفات پر ان کا کہنا تھا کہ اب شائد ان کے پائے کا کوئی کامیڈین دوبارہ نہیں مل سکے گا۔

اداکارہ نشو نے کہا ہے کہ رنگیلا نے اپنی زندگی کے آخری دنوں میں بہت تکلیف کاٹی ہے لیکن اس کا آئندہ کا سفراس لیے آسان ہوگا کہ اس نے دکھی انسانوں کے لبوں پر بھی ہنسی بکھیر دی۔

رنگیلا نے تین شادیاں کی تھیں اور ان کی ایک بیٹی فرح دیبا لاہور کی ایک یونین کونسل میں کونسلر بھی ہیں ان کاتعلق اگرچہ مسلم لیگ (ق) سے تھا لیکن میاں نوازشریف کی جانب سے ان کے والد کے علاج کے بندوست کے بعد وہ مسلم لیگ (ن) میں شامل ہوگئی تھیں۔ ان کا کہنا ہےکہ رنگیلا ایک عظیم فنکار ہی نہیں بلکہ ایک عظیم باپ بھی تھے اور انہیں دنیا میں سب سے بڑھ کر اپنے بچوں کی خوشیاں عزیز تھیں۔