http://bbc.com.im/urdu/

Wednesday, 25 May, 2005, 05:47 GMT 10:47 PST

اسداللہ
کراچی

تجارت میں دس گنااضافےکی امید

انڈین چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹریز کے صدر اونکارکنور نے امید ظاہر کی ہے کہ اگردونوں ممالک کے درمیان تجارت میں حائل رکاوٹوں کو دور کردیا جائے تودونوں ملکوں کے مابین تجارت کا موجودہ حجم آدھے بلین امریکی ڈالرز سے بڑھ کر دس بلین ڈالرز تک پہنچایا جاسکتا ہے۔

مسٹراونکار کنور پاکستان کے پانچ روزہ دورہ پر آئے بھارت کے تجارتی وفد کی سربراہی کر رہے ہیں۔

منگل کو کراچی میں پاکستان چیمبر آف کامرس اینڈانڈسٹریز کے زیرِ اہتمام منعقد کیے گئے سیمنارمیں پاک بھارت اقتصادی تعلقات کے موضوع پر خطاب کرتے ہوئے مسٹراونکار کنور نے دونوں ممالک پر زور دیا کہ بھارت اور بنگلہ دیش کی سرحد پر ہونے والی تجارت کو مثال بناکر واہگہ کی سرحد پر مناسب انتظامات کیےجائیں تاکہ دونوں ممالک کے درمیان تجارت سہل اور تیز رفتار بنائی جاسکے۔

انہوں نے تجویز پیش کی کہ واہگہ پر سرحد کی دونوں جانب گودام قائم کیے جائیں اور سڑکوں کا مربوط نظام وضع کیا جائے تاکہ دونوں ممالک کے درمیان ہونے والی کم ازکم دو بلین ڈالرز کی غیر قانونی تجارت کوزمینی راستوں سے قانونی شکل دی جاسکے۔

ان کے خیال میں واہگہ میں گوداموں کے قیام سے صارفین کو چیزیں سستی ملیں گی ورنہ مال سے زیادہ تو بھاڑا دینا پڑتا ہے۔

لاہور میں پیدا ہونے والے اونکار کنور کا کہنا تھا کہ وہ پاکستان سے بھارت کے لیے ’موسٹ فیورڈ نیشن‘ یا انتہائی قابلِ قبول ملک کا درجہ حاصل کرنے کے خواہاں نہیں ہیں بلکہ ان کی حکومتِ پاکستان سے درخواست ہے کہ وہ اپنی مقامی صنعتوں کا تحفظ کرتے ہوئے ان اشیاء کی ایک منفی فہرست بنا دے جو اس کے خیال میں بھارت سے منگانے میں خسارہ کا سودا ہوگا مگر اس کے علاوہ تمام اشیاء میں تجارت کی آزادی ہونی چاہیئے۔

اونکار کنورنےدونوں ملکوں کے درمیان موبائل فون کی رومنگ سروس اورایک دوسرے کے بینکوں کی شاخیں سرحدکی دونوں جانب کھولنے کی بھی پرزور سفارش کی۔

ان کے خیال میں دونوں ممالک کے مابین بہتر تجارتی مواقع دونوں ملکوں کے بہتر ہوتے ہوئے تعلقات کو مزید بہتر بنانے میں معاون ثابت ہوں گے۔

وزیرِمملکت برائے تجارت حامد یار ہراج نے دونوں ملکوں کی فیڈریشنوں پر زور دیا کہ وہ باہمی تجارت سے متعلق سفارشات مرتب کرکے دونوں حکومتوں کو پیش کریں تاکہ فوری نوعیت کے مسائل حل کیے جاسکیں-

اونکار کنور کی واہگہ پر گودام بنانے والی تجویز کو سراہتے ہوئے وزیرِ مملکت کاکہنا تھا کہ اگر ایسا ہوجائے تو یہ ایک بڑی بات ہوگی۔

گوادرمیں زیرِتعمیر بندرگاہ کا حوالہ دیتے ہوئے انہوں نے امید ظاہر کی کہ بھارتی تاجر وہاں صنعتیں لگا کر براہِ راست چاروں طرف زمین سے گھرے افغانستان اور وسط ایشیائی ریاستوں تک رسائی حاصل کر سکتا ہے۔