Sunday, 15 May, 2005, 17:26 GMT 22:26 PST
علی سلمان
بی بی سی اردو ڈاٹ کام لاہور
پاکستان کے ہیومن رائٹس کمیش نے علامتی میراتھن دوڑ کا انعقاد کرنے والی تنظیموں کے منتظمین کے خلاف پولیس ایکشن پر شدید تنقید کی ہے۔
سنیچر کو پولیس نے علامتی میراتھن کے منتظمین ا ور مخالفین کوگرفتار کر لیا تھا۔عاصمہ جہانگیر سمیت تیس افراد کو گرفتاری کے کئی گھنٹوں بعد رہا کر دیا تھا۔
پولیس کے ایک ترجمان نے کہا کہ گرفتار کیے جانے والے لوگ عورتوں اور مردوں کی مشترکہ دوڑ پر لگائی کی پابندی کی خلاف ورزی کر رہے تھے۔
گزشتہ ماہ گوجرانوالہ میں ہونے والی میرا تھن کے موقع پر پُرتشدد واقعات کے بعد حکومت پنجاب نے صوبے بھر میں مخلوط میراتھن پر غیر اعلانیہ پابندی لگا رکھی ہے۔
ہیومین رائٹس کمیش کا کہنا ہے کہ یہ دوڑ بلکل پرامن تھی اور اس کا مقصد معاشرے میں عورتوں کےساتھ ہونے والے ناروا سلوک کی جانب توجہ مبذول کرانی تھی۔
اس موقع پر سابق سنیٹر اقبال حیدر نےکہا کہ نہتی عورتیں کوگرفتار نہ کیا جائے۔انہوں نے کہا کہ موجودہ حکومت دہشت گردوں کی سرپرستی کررہی ہے جبکہ جمہوریت کی بات کرنے والوں سے تشدد سے پیش آرہی ہے۔
![]() میراتھن کے حامیوں اور زنانہ پولیس میں کش مکش |
ایک مقامی اخبار کی ایڈیٹر جگنو محسن نے اس موقع پر پولیس سے کہا کہ اقبال حیدر انسانی حقوق کمشن کے سیکرٹری جنرل اور سابق سنیٹر ہیں ان سے ایسا سلوک نہ کیا جاۓ۔
سابق وفاقی وزیر اور پاک انڈیا پیپلز فورم کے سربراہ ڈاکٹر مبشر حسن نے اس موقع پر کہا کہ حکومت نے انہیں بتایا ہے کہ اس میراتھن کو اس لیے نہیں ہونے دیا جارہا کہ جماعت اسلامی اور شباب ملی نے اسے طاقت سے روکنے کا اعلان کر رکھا ہے۔ان کا کہنا تھا کہ اگر یہ بات درست تھی تو ان کے بقول حکومت کو شباب ملی کو روکنا چاہیے تھا اور میراتھن کرنے والوں پر تشدد نہیں کرنا چاہیے تھا۔
![]() لیبر پارٹی کے فاروق طارق کو پولیس گاڑی میں دھکیلا جا رہا ہے۔ |
گرفتار کیے جانے والے لوگوں کو تقریباً ڈٌھائی گھنٹے بعد مختلف تھانوں سے رہا کر دیا گیا۔