Saturday, 14 May, 2005, 15:46 GMT 20:46 PST
علی سلمان
بی بی سی اردو ڈاٹ کام لاہور
لاہور میں پولیس نے علامتی میراتھن دوڑ کا انعقاد کرنے والی تنظیموں اور میراتھن کے مخالفین کوگرفتار کر لیا۔ ستر کے قریب گرفار کیے جانے والے افراد کو تاہم بعد میں رہا کر دیا گیا۔
ایس ایس پی لاہور نے ان کی گرفتاری اور پھر رہائی کی تصدیق کی ہے اور کہا ہے کہ ان کی رہائی وزیر اعلی پنجاب کے حکم پر عمل میں آئی ہے۔
جوائنٹ ایکشن کمیٹی فار پیپلز رائٹس اور انسانی حقوق کی دیگر تنظیموں نے آج سہ پہر قذافی سٹیڈیم میں میراتھن دوڑ منعقد کرنے کا جبکہ جماعت اسلامی کی ذیلی تنظیم شباب ملی نے اسے روکنے کا اعلان کر رکھا تھا۔
قذافی سٹیڈیم اور عاصمہ جہانگیر کے دفتر کے سامنے آج دوپہر سے ہی پولیس کی بھاری نفری تعینات تھی۔
جب میرا تھن دوڑ کے خواہش مند تقریباً تیس مرد اور عورتیں ہاتھوں میں روشن خیال اعتدال پسندی کے کتبے اٹھاۓ قذافی سٹڈیم پہنچے تو پولیس نے انہیں وہاں سے نکال دیا۔
قذافی سٹیڈیم سے نکالے جانے کے بعد جب یہ لوگ مین بلیوارڈ گلبرگ میں عاصمہ جہانگیر کے دفتر کے سامنے پہنچے تو پکڑ دھکڑ شروع ہوگئی۔ جب عورتوں کو گرفتار کیا جانے لگا تو سنیٹر اقبال حیدر نے مداخلت کی۔
اس موقع پر سابق سنیٹر اقبال حیدر نےکہا کہ نہتی عورتیں کوگرفتار نہ کیا جائے۔انہوں نے کہا کہ موجودہ حکومت دہشت گردوں کی سرپرستی کررہی ہے جبکہ جمہوریت کی بات کرنے والوں سے تشدد سے پیش آرہی ہے۔
![]() میراتھن کے حامیوں اور زنانہ پولیس میں کش مکش |
اپنی گرفتاری کے وقت اقبال حیدر نے کہا ’میں نہتا ہوں، میرے پاس کوئی بندوق نہیں کوئی خنجر نہیں ہے میرے ساتھ ایسا سلوک کیوں کیا جارہاہے‘۔پولیس نے انہیں اسی حالت میں پولیس وین میں ٹھونس دیا۔
ایک مقامی اخبار کی ایڈیٹر جگنو محسن نے اس موقع پر پولیس سے کہا کہ اقبال حیدر انسانی حقوق کمشن کے سیکرٹری جنرل اور سابق سنیٹر ہیں ان سے ایسا سلوک نہ کیا جاۓ۔
جگنو محسن نے کہا کہ اب اس بات کا فیصلہ ہوجانا چاہیے کہ اس ملک میں جمہوریت نام کی کوئی چیز ہے بھی یا نہیں۔
اس موقع پرعاصمہ جہانگیر، انسانی حقوق کمشن کی عہدیدار حنا جیلانی ، طارق فاروق ناصر اقبال، عرفان فرح ملک سمیت بیس پچیس مردوں اور عورتوں کو حراست میں لے لیا گیا۔
سابق وفاقی وزیر اور پاک انڈیا پیپلز فورم کے سربراہ ڈاکٹر مبشر حسن نے اس موقع پر کہا کہ حکومت نے انہیں بتایا ہے کہ اس میراتھن کو اس لیے نہیں ہونے دیا جارہا کہ جماعت اسلامی اور شباب ملی نے اسے طاقت سے روکنے کا اعلان کر رکھا ہے۔ان کا کہنا تھا کہ اگر یہ بات درست تھی تو ان کے بقول حکومت کو شباب ملی کو روکنا چاہیے تھا اور میراتھن کرنے والوں پر تشدد نہیں کرنا چاہیے تھا۔
مجلس عمل کے بعض عہدیداروں نے اس میراتھن کو طاقت سے روکنے کا اعلان کر رکھا تھا میرا تھن کے شرکاء کی گرفتاری کے بعد جماعت اسلامی کی ایک ذیلی تنظیم شباب ملی کے چنداراکین وہاں پہنچے تو پولیس نے لاٹھی چارج کے بعدانہیں بھی حراست میں لے لیا۔ شباب ملی کے بھی تقریبا ڈھائی درجن کے قریب کارکن پکڑے گئے ہیں۔
![]() لیبر پارٹی کے فاروق طارق کو پولیس گاڑی میں دھکیلا جا رہا ہے۔ |
گرفتار کیے جانے والے لوگوں کو تقریباً ڈٌائی گھنٹے بعد مختلف تھانوں سے رہا کر دیا گیا۔
لاہور میں ساڑھے تین مہینے پہلےایک بین الاقوامی میراتھن ریس کے کامیابی سے منعقد ہوئی تھی لیکن اس کے بعد چھ دینی جماعتوں کے اتحاد مجلس عمل نے اعلان کیا تھا کہ وہ ملک میں کوئی مزید ایسی میرا تھن نہیں ہونے دیں گے جس میں عورتیں مردوں کےساتھ دوڑیں۔
گزشتہ ماہ گوجرانوالہ میں ہونے والی میرا تھن کے موقع پر پُرتشدد واقعات کے بعد حکومت پنجاب نے صوبے بھر میں مخلوط میراتھن پر غیر اعلانیہ پابندی لگا رکھی ہے۔