Thursday, 12 May, 2005, 17:17 GMT 22:17 PST
تحریر: ناصر زیدی
اسلام آباد
انیس سو اٹھہتر ضیاالحق مارشل لاء اپنی فسطائی فرعونی طاقت کے ساتھ ملک پر سایہ فگن تھا۔ بولنے لکھنے اور اظہار رائے کے آزادی سلب کر لی گئی تھی۔
ہر طرف ہو کا عالم تھا۔جو بولتا تھا اٹھالیا جاتا تھا فوراً سزا سنا دی جاتی۔ ’ایک سال قید دس کوڑے‘۔ اگلے لمحے سزا پر عملدرآمد ہو جاتا۔
چودہ سال کے بچے سے لیے کر اسی سال کے بوڑھے سیاسی آزادیوں، آئین کی بحالی اور پریس کی آزادی کے جابر آمرکے سامنے سینہ سپر تھے۔ ایک اندازے کے مطابق تیس ہزار سے زائد سیاسی کارکنوں، دانشوروں، صحافیوں، کسانوں، مزدوروں کو کوڑوں کی سزائیں دی گئیں۔
جب آوازِ خالق خاموش نہ ہو سکی تو سندھ اور پنجاب میں اخبارات اور جرائد کو بند کر دیا گیا۔ سینکڑوں صحافی برطرف کر دیئے گئے۔ اخبارات پر سنسر شپ نافذ کر دی گئی۔ یہاں تک قرآن کی آیات کی بھی سنسر کیا جانے لگا۔
تیرہ مئی کا دن، لاہور کی گرمی اپنے جوبن پر تھی۔ ہمیں کیمپ جیل سے سینئر صحافیوں کے ہمراہ سمری ملڑی کورٹ لے جایا گیا۔ اسلم شیخ، سلیم عاصمی، علی احمد خان، نثار عثمانی اور تیس صحافیوں کو گروپ زنجیرؤں میں جکڑا دھوپ میں گھنٹوں عدالت میں سماعت شروع ہونے کا انتظار کرتا رہا۔ آخر چار چار کے گروپ میں سماعت شروع ہوئی اور دس پندرہ منٹ کے اندر فیصلے سنائے جانے لگے۔ نو ماہ قید بامشقتت، ایک سال قید بامشقت۔ جس کو نوماہ سزا ہوتی تھی وہ ایک سال سزا والے کو رشک سے دیکھتا تھا۔ ’یار تم تو ہم سے آگے نکل گئے۔‘
ہماری باری آئی۔میں خاور نعیم ہاشمی مسعود اللہ خان اور اقبال جعفری، ہمیں عدالت کے سامنے پیش کیا گیا۔ ہم سب کو ہتکھڑیاں لگی ہوئی تھیں۔ جیسے ہی ہم اندر داخل ہوئے ایک موٹا سا میجر فوراً کھڑا ہو گیا۔ دوسرے فوجی نے قرآن آگے کیا۔ میجر قرآن پر ہاتھ رکھ کر بولتا ہے ’میں خدا کو حاضر ۔۔۔۔‘ ابھی وہ اتنا ہی کہہ پایا تھا کہ خاور نعیم ہاشمی کی نحیف سی آواز آئی ’ٹھہریے! یہ تماشا کرنے کی کیا ضرورت ہے تم نے سزا دینی ہے دے دو۔‘
’عدالت‘ کو غصہ آ گیا اُسے یہ بات ناگوار گزری فوراً ن چیخ کر بولا ’تم سمجھتے ہو ہم تم صحافیوں کے سامنے ہتھیار ڈال دے گا ایسا ہرگز نہیں ہوگا۔‘
![]() آزادی صحافت اور اپنے جائز معاشی حقوق کے لیے اٹھائی جانے والی آوازوں کو دبا دیا جاتا ہے |
ہم باہر آئے تمام ساتھی انتظار میں تھے۔ ہم نے پرجوش انداز میں ساتھیوں سے یک زبان ہو کر کہا ہمیں کوڑے بھی پڑیں گے۔
![]() حال ہی میں اسلام آباد میں آزادیِ صحافت کے عالمی دن کے موقعہ پر 35 صحافیوں کو گرفتار کر لیا گیا تھا |
ہم باری باری ٹکٹکی پر باندھے گئے، اس طرح کہ بالکل برہنہ تھے اور ہماری پشت کے نیچے پنسل سے نشان لگا کر ایک کے بعدایک کوڑا مارتے رہے۔ زخم بنتے گئے۔ ہم سوچتے رہے کیا یہی وہ آزادی تھی جس کے لیے ہمارے بزرگوں نے جدوجہد کی؟ ہمارا خواب ٹوٹ گیا۔
آزادی کا سفر جاری رہا۔ پریس پر پڑی زنجیروں کے خلاف جدوجہد کا سفر آج بھی جاری ہے۔ نثار عثمانی مرحوم نے لاہور میں ضیاالحق کی پریس کانفرنس کے دوران کہا تھا ’جنرل صاحب سن لیجیے ! آپ پھانسی پر لٹکا سکتے ہیں لیکن آنے والی نسلیں ہمارا علم بلند رکھیں گی لیکن تمارا نام و نشان بھی نہ ہوگا۔‘
آج بھی پریس پر پابندیاں ہیں۔ لیکن کیونکہ دنیا بدل گئی اس لیے پابندیوں کے طور طریقے بدل گئے ہیں۔ اخبارات پہلے ’نظر آنے والی ایڈوائس‘ پر عمل کرتے تھے اب ’نظر نہ آنے والی‘ پابندیوں میں جکڑے ہوئے ہیں۔ قلم کار اپنے جائز حقوق، ویج ایوارڈ کے لیے آواز حق بلند کئِے ہوئے ہیں۔ ناپسندیدہ ایڈیٹر مالکان پر دباؤ ڈال نکلوا دیے جاتے ہیں۔
![]() سرکاری اہلکار بڑی ڈھٹائی سے آزادیِ صحافت کے دعوے کرتے ہیں |