Tuesday, 10 May, 2005, 10:22 GMT 15:22 PST
ریاض سہیل
کراچی
سندھ ہائی کورٹ کی دو رکنی ڈویژن بنچ نے پیپلز پارٹی کے حامی چار ناظمین کو برطرف کرنے کے سندھ حکومت کے فیصلے کو کالعدم قرار دیتے ہوئے انہیں بحال کردیا ہے۔
صوبے میں چار اضلاع کی مزید اضلاع میں تقسیم کے بعد چند ماہ قبل سندھ حکومت نے دادو کے ضلع ناظم ملک اسد سکندر، لاڑکانہ کے خورشید جونیجو، جیکب آباد کے شبیر بجارانی اور میرپورخاص کے پیر شفقت حسین شاہ جیلانی کو یہ کہہ کر برطرف کردیا تھا کہ ان اضلاع کی تقسیم کے بعد انہیں عوام کا مینڈیٹ حاصل نہیں رہا۔ یہ چاروں ناظمین پیپلز پارٹی کے حامی ہیں۔
یہ پہلا موقع تھا کہ پاکستان میں ضلع ناظمین کو ہٹایا گیا تھا۔
حکومت کے اس فیصلے کے خلاف ناظمین نے سندھ ہائی کورٹ میں آئینی درخواست دائر کی تھی۔ جسٹس سرمد جلال عثمانی اور جسٹس صادق لغاری پر مشتمل سندھ ہائی کورٹ کے دو رکنی بنچ نے منگل کے روز درخواست پر فیصلہ سنایا۔
عدالت نے اپنے فیصلے میں صوبائی حکومت کے فیصلے کو غیر قانونی قرار دیتے ہوئے کہا کہ سندھ لوکل گورئمنٹ آرڈیننس کے مطابق صوبائی حکومت کو یہ اختیار نہیں ہے کہ وہ ضلع ناظم کو برطرف کر سکے۔
![]() لاڑکانہ کے ضلع ناظم: خورشید جونیجو |
عدالت نے چاروں ناظمین کی آئینی درخواست منظور کرتے ہوئے کہا ہے کہ حکومت دس دن کے اندر سپریم کورٹ میں فیصلے کے خلاف اپیل کر سکتی ہے۔
اس عرصے کے دوران یہ ناظمین اجلاسوں کی صدارت کر سکیں گے تاہم اپنے اختیارات استعمال نہیں کر سکیں گے۔
پیپلز پارٹی سے تعلق رکھنے والے حیدرآباد کے ضلع ناظم مخدوم رفیق الزماں کو بھی حال ہی میں برطرف کیا گیا ہے۔ لیکن انہوں نے عدالت سے رجوع نہیں کیا ہے۔