Wednesday, 04 May, 2005, 14:39 GMT 19:39 PST
پاکستانی حکام ابو فراج کو لبی بتاتے ہیں اور ان کا کہنا ہے کہ اب پاکستان میں وہ ہی القاعدہ کو چلا رہے تھے۔
القاعدہ میں ان کی حیثیت واضح نہیں ہے لیکن کہا جاتا ہے کہ وہ تیسرے نمبر پر آتے ہیں۔ سکیورٹی اہلکاروں کا کہنا ہے کہ خالد شیخ محمد کی گرفتاری کے بعد انہوں نے ہی ان کی جگہ سنبھالی تھی۔
سکیورٹی حکام کا کہنا ہے کہ ابو فراج ہی اسامہ بن لادن اور پاکستان میں کام کرنے والے شدت پسندوں کے درمیان رابطے کا کام کرتے تھے۔
پاکستانی صدر جنرل پرویز مشرف نے خود پر دسمبر دو ہزار تین میں کیے جانے والےدو حملوں میں انہیں براہ راست ذمہ دار قرار دیتے ہوئے کہا تھا کہ انہوں نے ہی نہ صرف ان حملوں کے لیے سرمایہ فراہم کیا بلکہ حملوں کی نگرانی بھی کی۔
ابو فراج کی گرفتاری پر حکومتِ پاکستان کی طرف سے دو کروڑ روپے کا انعام مقرر ہے۔ جب کے امریکہ نے ان کے سر کی قیمت پچاس لاکھ ڈالر مقرر کی ہوئی ہے۔
![]() القاعدہ کے مطلوب افراد جن میں ابو فراج سرِ فہرست تھے |
ابو فراج اللبی کو پاکستانی وزیراعظم شوکت عزیز پر قاتلانہ حملے اور دوسرے کئی بم دھماکوں کا ذمہ دار قرار دیا جاتا ہے۔
کہا جاتا ہے کہ ابو فراج اللبی نے پاکستان کو مرکز بنایا ہوا تھا اور وہاں سے ہی برطانیہ میں بھی شدت پسندوں سے رابطے میں تھے۔