Friday, 15 April, 2005, 01:17 GMT 06:17 PST
پاکستان کے صدر پرویز مشرف نے کہا ہے کہ وہ کشمیر میں لائن آف کنٹرول کو ریاست کے تنازع کے آخری حل کے طور پر تو قبول نہیں کریں گے لیکن وہ سمجھتے ہیں کہ دونوں کشمیروں کے درمیان بس سروس کی ابتدا نرم سرحد کی جانب پیش رفت ہے۔
خبر رساں ادارے رائٹرز کو ایک انٹرویو دیتے ہوئے انہوں نے کہا کہ نرم سرحد سے ان کی مراد ہے کہ اس طرح کے اور روٹ کھولے جائیں۔
انہوں نے کہا کہ ’ہم نے بھارتی وزیرِ اعظم پر واضح کر دیا ہے کہ لچکدار رویہ اپنا کر بالآحر مسئلہ کشمیر کا حتمی اور منصفانہ حل نکالنا ہو گا‘۔
صدر مشرف نے کہا کہ اس مرتبہ وہ زیادہ مثبت فضا میں بھارت جا رہے ہیں جو آگرہ سربراہ ملاقات والی کشیدہ فضا سے کافی مختلف ہے۔ انہوں نے کہا کہ بھارت اور پاکستان کے مابین جاری امن کا عمل پیچھے نہیں کیا جا سکتا۔
ایک سوال کے جواب میں صدر مشرف نے کہا کہ اگرچہ پچھلے تین برس کے دوران ان کی جان لینے کی تین سنجیدہ کوشیں ہوئی ہیں لیکن اب ان کی ذات کے لیے خطرہ کم ہو گیا ہے۔ البتہ اب بھی وہ ’راتوں کو اکثر یہ سوچ سوچ کر نہیں سوتے کہ پاکستان کو مذہبی شدت پسندوں سے خطرہ ہے اور پاکستان کی خوشحالی کے لیے ضروری ہے کہ شدت پسندی کو دبا دیا جائے‘۔
صدر مشرف نے کہا کہ ملک میں امن امان کی صورتِ حال پہلے کے مقابلے میں بہتر ہے جس کا ثبوت یہ ہے کہ انہوں نے گزشتہ چند ماہ کے دوران ملک کے طول و ارض میں جلسوں سے خطاب کیا ہے اور بقول صدر مشرف ’میں کوفی اور ہاٹ چاکلیٹ پینے ہوٹلوں میں بھی جاتا ہے‘۔