Monday, 11 April, 2005, 13:15 GMT 18:15 PST
علی سلمان
بی بی سی اردو ڈاٹ کام لاہور
پاکستان کے صدر اور چیف آف آرمی سٹاف جنرل پرویز مشرف نے بلوچستان کے تنازعہ کے بارے میں کہا ہے کہ سوئی میں گولی چلانے والے کو ختم کر دیاجائے گا اور قومی اثاثوں کو نقصان نہیں پہنچنے دیا جائے گا۔
انہوں نے کہا کہ فوج وہاں ہے اور وہاں رہے گی لیکن وہاں کوئی فوجی کارروائی نہیں ہو رہی ہے۔
وہ پیر کو قصور میں ایک سڑک کے سنگ بنیاد رکھنے کی تقریب کے موقع پر
قصور پبلک سکول میں ہونے والے ایک جلسہ سے خطاب کر رہے تھے۔ صدر پاکستان نے کہا کہ بلوچ محب وطن ہیں اور بہادر لوگ ہیں۔
انہوں نے کہا کہ ’پاکستان مسلمانوں کے لیے بنا ہے اور جو اسے ختم کرنے کے بارے میں سوچے گا خود اسے ختم کر دیا جائے گا۔‘
صدر مشرف نے کسی کا نام لیے بغیر کہا کہ ’سوئی میں کوئی مسئلہ نہیں ہے، ایک شخص ہے جس کی کوئی وقعت نہیں اور وہ اپنی سرداری کے لیے سب کچھ کر رہا ہے۔‘
انہوں نے کہا کہ’سردار بلوچوں کے نمائندے نہیں ہیں، بلوچوں کے اصل نمائندے ہمارے ساتھ حکومت میں شامل ہیں سردار کہلانے والوں کی اپنی صورتحال یہ ہے کہ وہ اپنے ہی قبیلوں کے لوگوں پر ظلم کرتے ہیں اور ان کے مظالم کا شکار لوگ ملتان اور ڈیرہ غازی خان میں پناہ گزین ہیں۔‘
ان کا کہنا تھا کہ’بلوچستان میں ستاون سال میں اتنی ترقی نہیں ہوئی جتنی ترقی موجودہ دور میں ہوئی ہے لیکن کچھ عناصر خوشحالی نہیں دیکھنا چاہتے وہ اپنا فائدہ چاہتے ہیں‘۔
انہوں نے کہا کہ ’بلوچستان میں گیس بجلی اور صاف پانی فراہم کیا جارہا ہے۔ تین شہروں میں یہ سہولیات دیدی گئی ہیں باقی علاقوں میں بھی سہولیات فراہم کی جا رہی ہیں۔‘
انہوں کہا کہ’ ملک کی ترقی کی راہ میں حائل ہر رکاوٹ دور کر دی جائے گی‘۔
انہوں نے کہا کہ ’ آئندہ چند ماہ میں بلدیاتی انتخابات ہو رہے ہیں عوام دیانتدار لوگوں کو ووٹ دیں اور انتہا پسندوں کو مسترد کر دیں کیونکہ ان کے بقول انتہا پسند لوگ پاکستان کی تباہی کا سبب بھی بن سکتے ہیں۔‘
انہوں نے کہا کہ’ یہ کہا جاتا ہے کہ مجھ پر امریکہ کا کوئی دباؤ ہے حالانکہ یہ بات غلط ہے اور میں یہ بتانا چاہتا ہوں کہ مجھ پر کسی قسم کا کوئی دباؤ نہیں ہے‘۔
انہوں نے کہا کہ ’وہ عہدہ چھوڑ دیں گے لیکن دباؤ میں آئیں گے نہ ڈکٹیشن لیں گے۔‘
انہوں نے کہا کہ اگر وہ کسی دوسرے کے کہنے پر عمل کر رہے ہوتے تو آج عراق میں پاکستانی فوج موجود ہوتی۔ صدر کا کہنا تھا کہ پاکستان نے سلامتی کونسل میں بھی اپنی مرضی کے مطابق فیصلے کیے اور کسی دباؤ میں نہیں آئے‘۔
انہوں نے کہا کہ ان کی نیت صاف ہے اس لیے ملک ترقی کر رہا ہے ہر سال بتدریج غربت کم ہو رہی ہے تاہم انہوں نے کہا کہ قیمتوں میں اضافہ ہو رہا ہے اور اس کے لیے انہوں نے وفاقی ، صوبائی حکومتوں کو ہدایات جاری کر دی ہیں۔
انہوں نے کہا کہ بھارت سے کشمیر سمیت دیگر تنازعات حل ہوگئے تو قصور کا گنڈاسنگھ باڈر بھی کھول دیا جائے گا اور یہاں سے بھی تجارت ہوگی۔ انہوں نے کہا ایسی صورت میں صرف لاہور سے نہیں باقی علاقوں سے بھی تجارت ہوگی۔
انہوں نے بتایا کہ نئی تعمیر ہونے والی دو رویہ سڑک لاہور سےگنڈاپور باڈر تک بنائی جارہی ہے اور یہ ایک سال میں مکمل ہوجائے گی۔ انہوں نے قصور سمیت پنجاب کے مخلتف علاقوں کے لیے ترقیاتی کاموں کا اعلان کیا۔
تقریب سے وزیر خارجہ خورشید محمود قصوری اور وزیر اعلیٰ پنجاب چودھری پرویز الٰہی نے بھی خطاب کیا۔