Thursday, 03 March, 2005, 22:24 GMT 03:24 PST
عدنان عادل
بی بی سی اردو ڈاٹ کام، لاہور
لاہور میں پاکستان بُک سیلرز اور پبلشرز نے پانچ روز کے لیے ایک کتاب میلہ لگایا ہے جسے پاکستان کے پہلے عالمی میلہ کا نام دیا گیا ہے لیکن جس میں زیادہ اسٹالز لاہور کے ناشرین نے لگائے ہیں۔چند ناشرین کراچی اور اسلام آباد سے اور پندرہ بیس دلی کے تاجر بھی اس میں شریک ہیں۔
یہ لاہور میں لگایا جانے والا ایسا بین الاقوامی میلہ ہے جس میں اردو بازار لاہور میں درسی کتابوں کے خلاصے بنا کر بیچنے والے ایسے ناشرین بھی اس میں حصہ لے رہے ہیں جن کی مطبوعات پر کئی بار پابندی لگائے جانے کا مطالبہ کیا جاچکا ہے۔ اسلام آباد اور کراچی کے کئی نامور ناشرین اور بڑے سرکاری ناشر ادارے اس نمائش میں کہیں نظر نہیں آتے۔
میلہ کا اہتمام کرنے والوں نے دعوی کیا تھا کہ آج سے فورٹریس اسٹیڈیم لاہور کے ایکسپو سینٹر میں شروع ہونے والے اس میلہ میں ملک بھر سے ایک سو سے زیادہ ناشرین کتب اور دنیا بھر کے ایک سو سے زیادہ ناشرین اپنی کتابیں نمائش کے لیے پیش کریں گے اور خریدنے والوں کو رعایتی نرخوں پر دیں گے۔
تاہم حقیقت یہ ہے کہ اس میلہ میں تقریبا ایک درجن بھارتی ناشرین نے اسٹالز لگائے ہوئے ہیں جہاں وہ کتابیں فروخت ہورہی ہیں جو عام طور سے لاہور میں پہلے سے دستیاب ہیں اور کچھ بھارتی ناشرین جیسے سیج پبلشرز نے لاہور کے پاک بُک کارپوریشن کے ساتھ مل کر ایک چھوٹا سا اسٹال لگایا ہوا ہے۔
بعض بھارتی اسٹالز پر پاکستان کے اردو ادیبوں کی کتابوں کے دلی سے چھپے ہوئے جعلی ایڈشنز جیسے شاہد حمید کا ترجمہ کیا ہوا ناول اینا کریننا فروخت کیے جارہے ہیں۔
منتظمین کا دعوی تھا کہ اس میلہ میں امریکہ، برطانیہ کے ناشرین سمیت دنیا بھر کے سو سے زیادہ ناشرین اپنے اسٹالز لگائیں گے جبکہ نمائش میں لاہور کے کتب فروشوں اور تاجروں نے اپنی وہ کتابیں فروخت کے لیے رکھی ہوئی ہیں جو انہوں نے باہر سے درآمد کی ہوئی ہیں۔
![]() کتاب میلے میں کتابیں کن قیمتوں پر فروخت ہو رہی ہیں |
سرکاری ادبی اداروں کی کتابوں کا حال دیدنی ہے جن میں سے زیادہ تر نے درسی کتابیں شائع کی ہوئی ہیں اور وہ بھی بہت کم معیار کی طباعت کی حامل ہیں۔ اردو سائنس بورڈ جسے اشفاق احمد نے پروان چڑھایا اورکئی معیاری کتابیں بہت نفاست سے شائع کی تھیں اب اس کی گندے کاغذ پر چھپی کتابیں اشفاق احمد دیکھیں تو ان کی روح تڑپ اٹھے۔
اس بات کی وضاحت منتظمین ہی کرسکتے ہیں کہ چاروں صوبوں کے ٹیکسٹ بک بورڈز کو نمائش میں سب سے آگے اور نمایاں جگہ پر پہلی، دوسری اور تیسری کی نصابی کتابیں نمائش کے لیے پیش کرنے کا کتاب میلہ میں کیا فائدہ ہے۔
لاہور کے اس کتاب میلہ میں صرف سرکاری ادارے نمایاں رعایت پر کتابیں فروخت کررہے ہیں جبکہ مقامی ناشرین دس سے پندرہ فیصد رعایت پر کتابیں بیچ رہے ہیں جو ایسی رعایت ہے جو لاہور میں کوئی بھی کتاب فروش عام طور پر خریداروں کو مہیا کردیتا ہے۔
انڈین کتاب فروش اپنے پاکستانی ڈیلروں سے مل کر تو اپنی کتابوں کی قیمت امریکی ڈالروں میں وصول کررہے ہیں۔ ان بھارتی ناشرین نے کتابوں کی اصل قیمت چھپانے کے لیے ان پر زیادہ قیمت کے اسٹکرز لگائے ہوئے ہیں اور پھر وہ اس قیمت کو بھی بھارتی روپے کی قیمت ظاہر کرتے ہیں جو پاکستان کے روپے سے زیادہ قیمتی ہے۔
پاکستان میں کتاب پڑھنے والے لوگوں کی تعدا زیادہ نہیں اور جو محدود سا طبقہ کتابیں خریدتا ہے وہ لاہور کے کتب فروشوں کی گراں فروشی سے نالاں رہتا ہے اور حکومت کے تعاون سے لگایا جانے والا یہ نام نہاد بین القوامی کتاب میلہ بھی عام خریدار کو معیاری اور سستی کتابیں فراہم کرنے سے قاصر نظر آتا ہے۔