Monday, 21 February, 2005, 19:36 GMT 00:36 PST
برطانیہ کے اخبار گارڈین میں شائع ہونے والی ایک رپورٹ کے مطابق بلوچستان میں سوئی کے مقام پر مبینہ طور پر فوجی افسر کے ہاتھوں زیادتی کا نشانہ بننے والی لیڈی ڈاکٹر شازیہ خالد کا پولیس کے سامنے بیان ریکارڈ کئے جانے سے پہلے انہیں نشہ آور انجکشن لگایا گیا تھا تاکہ کیس کے حقائق پر پردہ ڈالا جاسکے۔
ریپ (زنا بلجبر) کے مبینہ واقعہ کے بعد پہلی مرتبہ کسی صحافی سے بات کرتے ہوئے شازیہ خالد نے گارڈین کے نامہ نگار ڈیکلان والش کو بتایا کہ ’’پولیس کے آنے سے پہلے کمپنی (پی پی ایل) کے چیف میڈیکل آفیسر نے کہا ’انہیں کوئی انفارمیشن نہیں دینا‘ اور پھر مجھے ایک خواب آور ٹیکہ لگا دیا گیا جس سے مجھے نیند آنے لگی۔‘‘
ڈاکٹر شازیہ نے گارڈین کو بتایا کہ اگرچہ وہ ریپ کرنے والے ملزم کی شناخت نہیں کرسکتیں کیونکہ ملزم نے ان کی آنکھیں دوپٹے سے باندھ دی گئی تھیں اور ان کے ہاتھ ایک ٹیلی فون تار کے ساتھ کس دیئے تھے۔ تاہم ڈاکٹر شازیہ کا کہنا تھا کہ وہ یہ جانتی ہیں کہ ملزم کی مونچھیں تھیں اور گھنگریالے بال تھے اور یہ کہ وہ ملزم کی آواز بھی پہچانتی ہیں۔
گارڈین اخبار کے مطابق ریپ کے واقعہ کے منظر عام پر آنے کے بعد بلوچستان کی پولیس نے ڈاکٹر شازیہ کا بیان دوبارہ قلمبند کیا ہے اور اخبار کے مطابق تفتیش میں ایسے اشارے دینے کی کوشش کی کہ ڈاکٹر شازیہ جسم فروشی کے دھندے میں ملوث تھیں۔ ڈاکٹر شازیہ نے پولیس تفتیش کی تفصیلات گارڈین کو بتاتے ہوئے کہا ’انہوں نے مجھ سے پوچھا کہ میرے پاس چوری ہونے والے پچیس ہزار روپے کہاں سے آئے اور یہ کہ میں زیوارات کب پہنتی ہوں۔ اور انہوں نے یہ بھی کہا کہ ایک صفائی کرنے والے کو میرے کمرے سے استعمال شدہ کنڈومز ملے ہیں۔‘
اخبار کے مطابق ڈاکٹر شازیہ اور ان کے شوہر بہت سہمے ہوئے ہیں اور وہ جلد ازجلد ملک چھوڑنا چاہتے ہیں۔ ’ہر کوئی اس معاملے کو سیاسی رنگ دینے کی کوشش کررہا ہے، پورا ملک ، پر ایک شخص،‘ ڈاکٹر شازیہ گارڈین کو یہ بتاتے ہوئے ان کی آواز بھرا گئی اور انہوں نے کہا کہ اب وہ کسی کا بھی سامنا کیسے کرسکتی ہیں اور ملک چھوڑ دینا چاہتی ہیں۔