Saturday, 05 February, 2005, 01:37 GMT 06:37 PST
پاکستان کے صوبہ بلوچستان میں خضدار اور نوشکی سے دھماکوں کی اطلاعات ملی ہیں لیکن ان میں کوئی جانی یا مالی نقصان نہیں ہوا۔
خضدار میں تقریباً شام سات بجے نامعلوم افراد نے فرانٹیئر کور کے ایک کیمپ پر دستی بم سے حملہ کیا تاہم اس حملے میں کسی جانی یا مالی نقصان کی اطلاع نہیں ملی ہے۔
اس طرح نوشکی سے بھی ایک دھماکے کی اطلاعات ہیں تاہم اس میں بھی کسی جانی یا مالی نقصان کی اطلاع نہیں ہے۔
کہا جاتا ہے کہ نوشکی میں اس دھماکے سے خوف و ہراس پیدا ہوا ہے کیونکہ گزشتہ دنوں بھی یہاں دھماکے ہوئے تھے اور بجلی کے ایک ٹاور کو نقصان پہنچا تھا اور بجلی کی فراہمی تعطل کا شکار ہوئی تھی۔
اس کے علاوہ کوہلو میں بھی ایسی ہی کاروائیوں کا سلسلہ جاری ہے وہاں بھی دو ہفتے قبل بجلی کی ہائی ٹینشن لائین کے کھمبوں کو جنہیں ٹاور کہا جاتا ہے نقصان پہنچا تھا اور بجلی کی فراہمی منقطع ہوئی تھی۔ جس کے نتیجے میں اب تک بجلی کی فراہمی اور پانی کے حصول میں رکاوٹیں ہیں۔
تربت میں بھی گزشتہ روز مسلم لیگ ق کے دفتر کو اور ایک اطلاع کے مطابق ایک مسلم لیگی کے گھر کو حملے کا نشانہ بنایا گیا تھا۔
![]() سردار میگل بھی اس موقف کے حامی ہیں کہ جب تک فوج سوئی سے نہ بلایی جکائے حکومت سے بات نہ کی جائے |
لیکن اس کے ساتھ ہی اب تک جس طرح بجلی کے کھمبوں کو نشانہ بنایا گیا ہے ان کے نتیجے میں بیشتر علاقوں کو بجلی کی فراہمی منقطع ہوئی اور لوگوں کو پانی تک کی فراہمی میں دشواریوں کا سامنا کرنا پڑا کیونکہ اکثر بلوچ علاقوں میں بجلی کے بغیر پانی کا حصول ناممکن ہو جاتا ہے۔
کوہلو سے ملنے والی اطلاعات کے مطابق لوگوں کو گزشتہ بارہ دن سے پانی کے حصول میں مشکلات کا سامنا ہے۔
نواب خیر بخش مری اس سے پہلے یہ کہہ چکے ہیں کہ بلوچوں کے لیے صرف ایک ہی راستہ ہے کہ وہ مسلح جد و جہد کریں۔