Friday, 28 January, 2005, 19:24 GMT 00:24 PST
پاکستان میں فوج نے کہا ہے کہ سوئی کے مقام پر گیس کی تنصیبات کی حفاظت کے لیے اس کے اردگرد کے پندرہ کلو میڑ کا علاقہ خالی کرایا جائے گا۔
اس فیصلے کا مقصد سوئی گیس تنصیبات کی حفاظت کو بہتر بنانا ہے۔
حکومت کے اس فیصلے پر بگٹی قبائل نے شدید ردعمل کا اظہار کیا ہے کہ وہ کسی صورت بھی اپنے آباؤ اجداد کی زمین چھوڑنے کے لیے تیار نہیں ہوں گے۔ ایک اندازے کے مطابق حکومت کے اس فیصلے سے پچیس ہزار بگٹی متاثر ہوں گے۔
فوج کے ترجمان کے لیے چھاؤنی کی تعمیر پہلے سے طے تھی اور اس کی تعمیر کے لیے سوئی میں چار سو ایکڑ بنجر زمین حاصل کی گئی ہے اور قانون کے مطابق زمین کی قیمت ادا کر دی گئی ہے۔
انہوں نے اپنی وضاحت میں کہا ہے کہ اس چھاؤنی کی تعمیر کی وجہ سکیورٹی اور صوبے میں ترقی کی وجوہات کی بنا پر قائم کی جا رہی ہے۔
ادھر بدھ کی شب صدر جنرل پرویز مشرف نے مسلم لیگ کے صدر چوہدری شجاعت حسین سے ملاقات کی ہے جس میں بلوچستان کے مسئلے پر تبادلہ خیال کیا گیا۔
سرکاری خبر رسان ایجنسی اے پی پی کے مطابق اس ملاقات میں صدر مشرف نے ملک کے سیاستدانوں سے اپیل کی کہ وہ بلوچستان کے مسئلے کے حل کے لئے حکومت کی مدد کریں۔
بلوچ قوم پرست رہنما صوبے میں نئی فوجی چھاؤنیاں بنانے کے مخالف ہیں اور اس اعلان پر نواب اکبر بگٹی کا کہنا ہے کہ اس چھاؤنی کی تعمیر کے لئے زمین زبردستی حاصل کی گئی ہے۔