Wednesday, 19 January, 2005, 22:35 GMT 03:35 PST
علی سلمان
بی بی سی ڈاٹ کام لاہور
لاہور کی ایک عدالت نے پریس کلب پر مبینہ حملہ کرنے والے کے واقعہ میں ملوث ایک سو چھیاسٹھ شعیہ طلباء کے بارے میں کہا ہے ان پر انسداد دہشت گردی کے ایکٹ کا اطلاق نہیں ہوتا اس لیے ان کے خلاف مقدمے کی سماعت عام عدالت کرے گی لیکن عدالت کے اس فیصلے کے باعث پانچ روز سے زیر حراست ان شیعہ طلباء کی بدھ کو بھی ضمانت نہیں ہو سکی۔
بدھ کے روز ایک سو چھیاسٹھ طلباء کو انسداد دہشت گردی کی عدالت میں پیش کیا گیا تھا۔ ملزمان کے وکیل نے عدالت کو بتایا کہ ملزمان کی صحافیوں سے صلح ہوگئی ہے اور کچھ دیر میں اس سلسلے میں پبلک پراسیکیوٹر کو باقاعدہ اطلاع بھی مل جائے گی جس پر عدالت نے ایک بجے تک سماعت ملتوی کر دی۔
پبلک پراسیکیوٹر رانا بختیار نے بی بی سی کو بتایا کہ کسی طرف سے انہیں کوئی اطلاع نہیں ملی جس پر ضمانت کی درخواستوں پر بحث شروع ہوگئی۔
بحث کے بعد عدالت نے قرار دیا کہ ان پر انسداد دہشت گردی ایکٹ کا اطلاق نہیں ہوتا۔ اسی بنیاد پر عدالت نے ان کی ضمانت کی درخواستیں بھی نمٹا دیں اور یوں یہ طلبہ ضمانت پر رہا نہیں ہو سکے۔
لاہور میں بدھ سے سرکاری چھٹیاں شروع ہوگئی ہیں اور سرکاری اعلان کے مطابق عدالتیں اب عید کے بعد اپنا معمول کا کام شروع کریں گی۔
ان زیر تحویل طلباء پر الزام ہے کہ انہوں نے جمعہ کو ایک احتجاجی مظاہرے کے دوران لاہور پریس کلب پر پتھراؤ کیا تھا جس میں چند صحافی زخمی ہوئے اور املاک کو نقصان پہنچا تھا۔ پولیس نے ان طلباء کو موقع سے گرفتار کر لیا تھا بعد میں انہیں جوڈیشل ریمانڈ پر بھجوا دیا گیا تھا۔
ان طلباء سے ایک روز پہلے امامیہ سٹوڈنٹس آرگنائزیشن سے تعلق رکھنے والے طلباءنے شیعہ رہنما آغا ضیا کی ہلاکت کے خلاف مظاہرہ کیا تھا اور ان کی صحافیوں سے جھڑپ ہوئی تھی جس کے نتیجے میں ان کی کوریج کا بائیکاٹ کیا گیا تھا۔
صحافیوں نے جمعہ کو ہونے والے واقعہ کو کوریج نہ ہونے کا ردعمل قرار دیا تھا اور پولیس اور آئی ایس او کے خلاف احتجاجی مظاہرے کیے تھے اور پنجاب اسمبلی کی کارروائی کا بائیکاٹ کیا تھا لیکن آئی ایس او نے ان ایک سو چھیاسٹھ طلباء سے لاتعلقی کا اظہار کر دیا تھا۔
جس کے بعد سے ان کے صحافیوں سے تعلقات معمول پر آنے کی توقع کی جا رہی ہے۔